اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 512

اتمام الحجّة — Page 143

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴۳ نور الحق الحصة الأولى قياسه على أفضل الرسل وخير الأنبياء ، فقياس مع الفارق وبعيد عن شدید القوی کا قیاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کرنا قیاس مع الفارق ہے اور ایسا قیاس الحياء وقد قال نبينا صلى الله عليه و سلم لِعُمَرَ ما لقيك الشيطان حیا سے بعید ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو کہا تھا کہ اگر شیطان تجھ کو کسی راہ في فَجٍّ إلا سلك فجا غير فجك، ويثبت من هذا الدليل أن الشيطان میں پاوے تو دوسری راہ اختیار کرے اور تجھ سے ڈرے۔ اور اس دلیل سے ثابت ہوتا ہے کہ شیطان يفر من عمر كالجبان الذليل، وأما المسيح فيسمى أفضل صحابته ۱۰۷) حضرت عمر سے ایک نامرد ذلیل کی طرح بھاگتا ہے لیکن حضرت مسیح نے اپنے بڑے صحابی کو شیطان فرمایا شيطانا في الإنجيل، فانظر الفرق بينهما خائفا من الرب الجليل، ولا پس خدا کے خوف سے دیکھ کہ ان دونوں باتوں میں کس قدر فرق ہے اور شیطانوں کی راہ تبادر إلى سبل الشياطين۔ ثم إذا كانت القوة كله للشيطان فما بال کی طرف مت دوڑ ۔ پھر جبکہ تمام قوتیں شیطان کے لئے ہی ٹھہریں تو تمہارے اس کمزور خدا کا إلهكم الضعيف الذي ما له قِبَل بهذا السرحان، بل تبعه كالمغلوب کیا حال ہے جو اس سے مقابلہ نہ کر سکا بلکہ ایک مغلوب اور حاجت مند کی طرح اس کے پیچھے أو كمحتاج ذى الكروب، وقاده الشيطان بمكر عجيب، ودعاه لگ گیا اور ایک مکر عجیب کے ساتھ شیطان نے اس کو کھینچا اور ایک عجیب دھوکا کی طرف اس کو بلایا إلى إغرار غريب۔ والعجب أنه مع دعاوى الألوهية وإدلال الإبنية اور تعجب کہ وہ باوجود خدائی کے دعوے اور ابن اللہ ہونے کے ناز کے پیچھے لگ گیا تبعه بحسن الظن وما فهم أنه حُوَّلٌ قُلَّبٌ، ووعده بَرُقٌ خُلَّبٌ، وهو اور نہ سمجھا کہ وہ بڑا حیلہ ساز اور متفنی ہے اور اس کا وعدہ برق بے باران ہے اور وہ رئيس الكاذبين۔ وأنتم تعلمون اليهود كانوا يقولون للمسيح إنك ما ترى جھوٹوں کا سردار ہے۔ اور تم جانتے ہو کہ یہود مسیح کو کہا کرتے تھے کہ تو خدا تعالیٰ کی طرف