اتمام الحجّة — Page 142
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۴۲ نور الحق الحصة الأولى ١٠٦) أو استنبط من قصة إبليس إذا أتى المسيح كالفيل، وقاده بقوته العظمى یا اس خیال کو مسیح کے اس قصہ سے استنباط کیا ہے جب شیطان ہاتھی کی طرح اس کے پاس آیا اور ایک بڑی قوت إلى بعض جبال الجليل، وجربه بالأباطيل، وما استطاع المسيح أن لا کے ساتھ گلیل کے ایک پہاڑ پر اس کو لے گیا اور اپنے اباطیل کے ساتھ اس کی آزمائش کی اور مسیح سے یہ نہ ہوا کہ يميل إليه من قَودِه ، ولا يخطو إلى طوده، ويأخذ بفوده، ويزيل لظاه | اس کی طرف جانے سے اپنے تئیں روک لے اور اس کے پہاڑ کی طرف قدم نہ اٹھا وے اور اس کے سر کو پکڑ لے اور بجوده، بل مشى تِلْوَه كالضعفاء المستضعفين۔ فإن كان مبدأ الوهم هذا اور اپنے منہ سے اس کی آگ کو نابود کرے بلکہ مسیح تو اس کے پیچھے کمزوروں کی طرح چل پڑا پس اگر اس وہم کا اصل الخيال، كما أني أخال، فلا ننكر واقعة المسيح، ونؤمن به كالأمر موجب یہی خیال ہے جیسا کہ میں گمان کرتا ہوں پس ہم اس واقعہ سے انکار نہیں کرتے اور امر صحیح کی طرح اس کو مان الصحيح، ونقرّ بأن شيطان ذلك المسيح كان شديد القوى، فلذلك لیتے ہیں اور ہم اقرار کرتے ہیں کہ ایسے مسیح کا شیطان در حقیقت شدید القوی ہی تھا اسی وجہ سے تو وہ اس کو پہاڑوں قاده إلى جبال على، وقال اسجدلي، أعطيك دولة عظمى، ومُلكًا لا يبلى کی طرف کھینچ کر لے گیا اور کہا کہ مجھے سجدہ کر تجھے دولت اور بڑا ملک دوں گا اور ایک ضعیف وطمع في إيمان ضعيف غريب، ووثب عليه كذئب رغيب، وما تركه إلا إلى غریب آدمی کے ایمان میں اس نے طمع کی اور حرص کی وجہ سے بھیڑیئے کی طرح اس پر حملہ کیا اور پھر اس سے حين ولفظ الحين موجود في إنجيل لوقا باليقين، فلينظر من كان من دوبارہ آنے کا پختہ ارادہ رکھ کر دور ہو گیا اور حین کا لفظ انجیل لوقا میں بالیقین موجود ہے جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ المرتابين۔ ولا شك أن الشيطان إذا أتى بعد زمان، فعلم التثليث عند لقاء اور کچھ شک نہیں کہ جب شیطان دوسری مرتبہ آیا تو اس نے تثلیث سکھلائی ثان، وأهلك الهالكين، لأن اللقاء كان من مواعيد الشيطان اللعين۔ وأما اور مرنے والوں کو مارا کیونکہ دوسری مرتبہ آنا شیطان کا وعدہ تھا مگر مسیح کے شیطان