اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 512

اتمام الحجّة — Page 118

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۸ نور الحق الحصة الأولى القدرة وخارجة من السنن المستمرة، فكيف قبلتموها وقائلها إن خرافات اور قانون قدرت سے بعید تھیں اور خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ سے دور تھیں پس اگر تم عقلمند تھے تو کیوں اس شخص کو كنتم عاقلين۔ اور اس کی باتوں کو قبول کر لیا۔ وكيف نسيتم تجارب الحكماء ، أكنتم أنعامًا أو كنشوان اور کیونکر تم نے حکیموں کے تجارب کو فراموش کر دیا کیا تم چار پائے تھے یا شراب سے مست تھے الصهباء مخمورين؟ وكيف ظننتم أنه صدوق أمين مع أنه خالف اور تم نے کیونکر جانا کہ وہ صادق اور امین ہے حالانکہ اس نے تمام صادقوں کے برخلاف الصادقين أجمعين؟ أما رأيتم أطماره؟ أما شاهدتم إزاره ؟ أما سمعتم من بات کہی کیا تم نے اس کی پرانی چادریں نہ دیکھیں کیا تم نے مکاروں کے قصے قبل قصص المكارين؟ فلا تلوموا أحدًا ولوموا أنفسكم إنكم قد نہیں سنے تھے سو تم اپنے آپ کو ملامت کرو نہ کسی دوسرے کو تم نے أهلكتم نسوانكم وإخوانكم وخلانكم وجيرانكم، فليبك على اپنی بیویوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے ہمسائیوں کو ہلاک کر دیا پس چاہیے کہ ہر یک فهمكم من كان من الباكين۔ رونے والا تمہاری سمجھ پر رووے ۔ هذا مثل المسيحيين وكفارتهم وجهلهم وغرارتهم، وما قلنا یہ عیسائیوں اور ان کے کفارہ کی مثال ہے اور ان کی نادانی کا نمونہ ہے اور ہم نے إلا نصاحة لله لقوم جاهلين۔ ولكن المسيح والصالحين من أصحابه محض اللہ نادانوں کے لئے یہ نصیحت بیان کی ہے مگر مسیح اور اس کے نیک اصحاب اس تمثیل مبرؤون من ذلك المثل وخطابه، وما نتوجه إلا إلى الخائنين سے مبرا ہیں اور ہمارا خطاب صرف ان خیانت پیشہ لوگوں کی طرف ہے