اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 117 of 512

اتمام الحجّة — Page 117

روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۷ نور الحق الحصة الأولى العوام والخواص، ومع ذلك كانوا صارخين۔ فقال القوم ما لكم لا میں رسوا ہونے سے ڈرے مگر باوجود اس کے فریاد کر رہے تھے۔ پس قوم نے کہا کیا سبب کہ تمہارے آنسو ترقا دمعتكم ولا تسكن زفرتكم، أظلمتم من قوم عادين؟ لم تسترون نہیں تھمتے اور تمہاری چیچنیں کم نہیں ہوتیں کیا تم پر کسی ظالم نے ظلم کیا کیوں تم حقیقت کو چھپاتے الحقيقة وتزيدون الكربة، ألا ترون إلى لوعة كرب المحبين؟ فصاحوا اور اپنے دوستوں کی بے قراری کو زیادہ کرتے ہو۔ پس انہوں نے پھر ایک چیخ ماری جو ایک زیاں رسیدہ صيحة المغبون، واستحيوا من إظهار الكمد المكنون، ثم بينوا القصة مارتا ہے اور چھپے ہوئے غم کے ظاہر کرنے سے شرم کی پھر قصہ کو کھول دیا اور غصہ ظاہر وأبدوا الغُصة، وما كادوا أن يبينوا، ولكن عجزوا عن إصرار (۸۷) کر دیا اور نہیں چاہتے تھے کہ ظاہر کریں لیکن اصرار کرنے والوں کے اصرار سے عاجز آ گئے ۔ پس ہریک المصرين فلامهم كلُّ أحد من العقلاء ، ومطرت من كل جهة سهام عقلمند نے ان کو ملامت کی اور ملامت کرنے والوں کے ہر یک طرف العذلاء ، فنكسوا رؤوسهم متندمين۔ وقال المعيرون يا معشر الحمقاء سے تیر برسے۔ پس انہوں نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لئے اور ملامت کرنے والوں نے کہا وأئمة الجهلاء ، ألستم علمتم أنه جاء كم فقير بادي الخذلان، وعليه کہ اے احمقو اور جاہلوں کے پیشواؤ کیا تمہیں معلوم نہیں تھا کہ ایک محتاج تمہارے پاس آیا جس کی بے عزتی کھلی کھلی تھی بردانِ رنان كالعُثان ؟ فمن كان في أطمار كيف يهبكم رياش أفخار، اور اس پر پرانی چادریں دھوئیں کی طرح تھیں سو جو شخص آپ ہی پرانی چادریں رکھتا تھا وہ تمہیں لباس فاخرہ وينجيكم من أسر أوطار ؟ أما رأيتم عليه أثر الإفلاس، فكيف شغفتم به کہاں سے دیتا اور کیونکر تمہاری حاجت روائی کرتا کیا تم نے افلاس کے آثار اس میں نہیں پائے تھے أكنتم أنعاما أو من الناس؟ ثم كانت هذه الخرافات بعيدة من قانون پھر کیوں تم اس کے فریفتہ ہو گئے کیا تم چار پائے تھے یا آدمی تھے پھر قطع نظر اس سے یہ باتیں بھی از قبیل