اتمام الحجّة — Page 97
روحانی خزائن جلد ۸ ۹۷ نور الحق الحصة الأولى بالقيامة ولها كالعلامة، فإن الله تعالى ذكر هذه القصة في ذكر متعلق ہے اور اس کے لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا قصة الجنة ونعمائها العامة، ثم صرح بتصريح آخر وقال ذلك ہے اور اس کی نعمتوں کے بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی تصریح کر کے فرمایا ہے کہ یہ وہی حق الْيَوْمُ الْحَقُّ، ولفظ اليوم الحق في القرآن بمعنى القيامة، ويعلمه (۷۳) کے کھلنے کا دن ہے اور الیوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کا رامانت دار اس کو جانتا ہے پس اب غور كل خبير أمين ۔ فانظر كيف بين أنها واقعة من وقائع يوم الدين، ثم کر کہ کیونکر خدا تعالیٰ نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار انظر كيف يفترون الذين في قلوبهم مرض ولا يخافون الله وما ہیں اور ان کے دل میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں کیونکر افترا پردازیاں کر رہے ہیں اور تقوی اختیار نہیں کرتے۔ كانوا متقين۔ فالحاصل أن الآية لا تؤيّد زعم هذا الواشى بل تمزقه پس حاصل کلام یہ ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ موید نہیں بلکہ یہ تو اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے وبها يقع القول عليه وتجعله الآية من الكاذبين ۔ فإنه يقول إن عيسى اور اس کے ساتھ بات اسی پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ إله وابن إله، ويقول إن الروح هو الله وعينه، والآية تبدى أن هذا عیسی خدا اور خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر مينه، وتبدى أن الروح الذي ذكر ههنا هو عبد عاجز تحت حكم الله رہی ہے کہ یہ اس کا جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے وقدره، وما كان له خِيَرَةٌ في أمره، وإن هو إلا من الطائعين، وما كان جس کو خدا کے کسی امر میں اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ اس روح کو له أن يشفع من غير إذن الله، لأن الله عز وجل قال في هذه الآية شفاعت کا اختیار نہیں اور شفیع وہی ہو گا جس کو اذن ملے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں صاف فرما دیا ہے کہ