اتمام الحجّة

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 512

اتمام الحجّة — Page 96

17 روحانی خزائن جلد ۸ १५ نور الحق الحصة الأولى ومن اعتراضات الواشى الضال، الذى ينوم بنعاس الضلال اور یہ گمراہ نکتہ چین جو خواب ضلالت میں سوتا ہے اس کے اعتراضات میں سے ایک وہ اعتراض ہے جس کو اس نے اعتراض بنى عليه عقيدته الباطلة في كتابه التوزين ۔ وتفصيله أنه اپنی کتاب تو زین الاقوال میں اپنے عقیدہ باطلہ کی بنیاد ٹھہرایا ہے اور تفصیل اعتراض یہ ہے کہ اس نے قرآن کریم کی اس آیت رأى في القرآن الكريم آية يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَيْكَةُ ، فَتَلقَّفَ کریمہ کو دیکھا جو يوم يقوم الروح والملائكة ہے الخ ۔ سو اس نے لفظ روح کو اس جگہ سے اچک لیا جیسے ایک حریص ایک لفظ الروح كالشحيح، وأراد أن يستنبط منه نزول المسيح، بل چیز کوا چک لیتا ہے اور چاہا کہ اس سے نزول مسیح پر دلیل قائم کرے بلکہ بے حیائی کی وجہ سے یہ بھی چاہا کہ اس سے حضرت مسیح کی أن يثبت ألوهيته كالوقيح، فكتبه مستدلا كالمبطلين الفرحين۔ الوہیت ثابت ہو جائے پس اس نے استدلال کے خیال سے باطل پرستوں کی طرح بہت خوش ہو کر اس آیت کو لکھا۔ یہی کہ یہ أما الجواب فاعلم أن هذه الآية لا تفيده أصلا ولا يثبت منها اب اس کے جواب میں سمجھ کہ یہ آیت اس شخص کو کچھ بھی مفید نہیں اور اگر اس سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو بس شيء إلا حمقه وجهله وكونه من السفهاء المستعجلين۔ ولا يخفى شخص احمق اور نادان اور سفیہ اور جلد باز ہے اور مشاہیر على الفضلاء الأعلام أن تأويل الروح بعيسي في هذا المقام دجل علماء پر پوشیدہ نہیں کہ اس مقام میں روح کے لفظ سے عیسیٰ مراد لینا دجالیت اور وافتراء ، بل جاء في كتـب التـفـسـيـر أنـه جبرائيل عليه السلام، أو افترا ہے بلکہ تفسیروں کی جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشته ملک آخر على اختلاف الروايات كما لا يخفى على الناظرين۔ ثم ہے اور دونوں قسم کی روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ پھر منطوق منطوق الآية يبدى بالتصريح ويحكم بالتنقيح أن هذه الواقعة متعلقة آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے النبأ : ٣٩ رو سے وہ