استفتاء — Page 146
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۶ حجة الله بنية صالحة كالأبرار، وليُشِع هذا العزم في الجرائد والأخبار ما را پیچو نیکوکاران خبر دهد و این عزم را در اخبار ہمیچو یقین کنندگان بھلے مانسوں کی طرح ہمیں خبر دے۔ اور چاہئے کہ اس قصد کو اخباروں میں یقین کر نیوالوں کی طرح كأهل الحق واليقين۔ شائع کناند۔ شائع کردے۔ وأما أنا فبعد اطلاعى على ذلك الاشتهار، سأرسل إليه مگر من پس بعد از اطلاع برین اشتہار چند ورق برائے امتحان سوئے مگر میں پس میں اشتہار پر اطلاع پانے کے بعد چند ورق امتحان کے لئے أوراقا للاختبار ، ليحكم الله بيني وبين هذا الكفار ، وَهُوَ أحكم او خواهم فرستاد تا که خدا تعالی در من او فیصلہ فرماید خدا احکم اس کی طرف بھیج دوں گا۔ تاکہ خدا تعالیٰ مجھ میں اور اس میں فیصلہ کر دیوے اور وہ احکم و و الحاكمين ۔ وإني أرى مذ أعوام، أنّ هذا الرجل لا يمتنع من الهذيان الحاکمین است و من از چند سال می بینم که این شخص از بیہودہ گوئی باز نمی آید الحاکمین ہے اور میں کئی برس سے دیکھ رہا ہوں کہ یہ شخص بیہودہ گوئی سے باز نہیں آتا ولا يتقى أخذ الله الديان، فألجأني بخله إلى هذا الامتحان و از مواخذه خدا تعالی نمی ترسد پس بخل او مرا برائے ایس امتحان بے قرار کرد اور خدا تعالیٰ کے مواخذہ سے نہیں ڈرتا۔ سو اس کے بخل نے اس امتحان کے لئے مجھے مجبور کیا۔ فإن جاء المضمار وأثبت ما ادعى و مازَ كَلِمى من كلمات أخرى ، فله ما | پس اگر در میدان آمد و آنچه دعوی کر د ثابت نمود و کلمات مرا از کلمات دیگراں جدا کر د پس او ر ا آن انعام پس اگر میدان میں آیا اور جو دعویٰ کیا تھا اس کو ثابت کر دکھلایا۔ اور میرے کلموں کو دوسروں کے کلموں سے علیحدہ کر سمع منا ووعي، وإن شمر ذيله وانثنى، وما طالبنا ما وعدنا خواهم داد که از ما شنیده است و یاد داشته است و اگر دامن خود پیچید و برگشت و مطالبه وعده مانکرد کے دکھلا دیا سو ہم اس کو وہ انعام دیں گے جو ہم سے سن چکا ہے اور اگر اپنا دامن سمیٹ لیا اور پھر گیا اور ہمارے وعدہ