استفتاء

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 494

استفتاء — Page 145

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۴۵ حجة الله مقالاته، أن نعرض عليـه كـلامــا مـنــا وكلامًا آخر من بعض العرب ﴿۵﴾ این است که ما برو کلام خود و کلام دیگران از عرب عربا پیش کنیم ہم اس پر اپنا کلام اور بعض دوسرے ادیب عربوں کا کلام پیش کریں۔ اور العربـاء ، ونلبس عليه اسمنا واسم تلك الأدباء ، ثم نقول أنبئنا و برد نام خود و نام آن ادیباں پوشیده داریم باز بگوئیم که ما را خبرده اپنا اور ان کا نام اس پر پوشیدہ رکھیں۔ اور پھر اس کو کہیں کہ ہمیں بتلا بقولنا وقول هؤلاء ، إن كنت في زرايتك من الصادقين۔ که قول ما کدام است و قول ایناں کدام اگر در عیب گیری راست گو ہستی ۔ کہ ان میں سے ہمارا کلام کونسا ہے اور ان کا کلام کونسا ہے اگر تو سچا ہے۔ فإن عرف قولى وقولهم وأصاب فيما نوى، وفرق كفلق الحب پس اگر قول مرا و قول اوشاں را شناخت و در شناختن خطا نکرد و چون دانه و خسته آن پس اگر اس نے میرا قول اور ان کا قول شناخت کرلیا اور گٹھلی اور دانہ کی طرح فرق کر کے من النوى، فنعطيه خمسين روفية صلةً منا جدا کرده نمود پس ما او را پنجاه روپیه بطور انعام یا ودکھلا دیا پس ہم اس کو پچاس روپیہ بطور انعام یا أو غرامة، ونحسب منه ذلک كرامة، ونعده من تاوان خواهیم داد از ادباء و و درین کرامت او خواهیم شمرد تاوان دیں گے۔ اور یہ اس کی کرامت سمجھی جائے گی۔ اور ہم اس کو ادباء الأدباء الفاضلين، ونقبل أنه كان فيما زراى من الصادقين فاضل او را خواهیم شمرد و قبول خواهیم کرد که او در عیب گیری راست گو بود فاضلین میں سے شمار کریں گے اور قبول کریں گے کہ وہ عیب گیری میں راست گو تھا فإن كان راضيا بهذا الاختبار، ومتصدّيًا لهذا المضمار، فليخبرنا پس اگر بدیں آزمایش راضی باشد و برائی این میدان طیار باشد پس باید که پس اگر اس آزمائیش کے ساتھ راضی ہو اور اس میدان کے لئے طیار ہو تو