استفتاء — Page 134
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۳۴ استفتاء یہ پیشگوئی ظہور میں نہیں آئے گی ۔ تو اس صورت میں ضروری ہوگا کہ اس میعاد کے آخری سیکنڈ میں پیشگوئی کا ظہور ہو لیکن جبکہ خدا اپنی مصلحت سے ایک میعاد مقرر کر کے یہ ظاہر فرمائے کہ اس میعاد کے اندر اندر جس حصہ میں میں چاہوں گا فلاں کام کروں گا تو ایسی پیشگوئی پر اعتراض کرنا خدا تعالیٰ کے تمام کارخانہ پر اعتراض ہے اور لیکھرام کے متعلق کی پیشگوئی میں ایک یہ بڑی عظمت ہے کہ اس میں صرف میعاد چھ سال کی نہیں: چھ سال کی نہیں بتلائی گئی بلکہ یہ بھی تو بتلایا گیا تھا کہ وہ ایسے دن میں اپنی سزا کو پہنچے گا جو عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا ۔ - چنانچہ لیکھرام کا نام گوساله سامری اسی لئے رکھا گیا کہ گوسالہ عید کے دن جلایا گیا تھا ۔ اور صریح الہام میں بھی عید کا دن آگیا ۔ اور ایسا شہرت پا گیا جو صدہا ہندوؤں میں وہ الہام مشہور ہو گیا ۔ اور الہام اور کشف نے صاف لفظوں میں یہ بھی بتلا دیا کہ وہ ہیبت ناک موت ہوگی اور قتل کے ذریعہ سے وقوع میں آئے گی ۔ اور کشف نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ موت کا دن اتوار اور رات کا وقت ہوگا ۔ اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر اعلیٰ درجہ کی غیب کی باتیں بھری ہوئی ہیں ۔ اب کیا یہ صحیح نہیں کہ اگر ان تمام امور کو بہ ہیئت مجموعی اور بنظر یک جائی دیکھا جائے اور براہین کی پیشگوئی کو بھی ساتھ ملایا جائے تو بے شک یہ ضروری نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ پیشگوئیاں فوق العادت اور بالکل انسانی طاقتوں سے برتر ہیں ۔ ہاں اگر کسی انسان کو یہ قوت حاصل ہے کہ ایسا دقیق در دقیق غیب بیان کر سکے اور ان امور کی سترہ ۱۷