عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 613 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 613

۲۳۱ روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۰۹ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس دیس میں مشرف کیا گیاہوں اس نے مندرجہ ذیل خارق عات پیشگویاں یا میں جو یار یار میں اتاری اور پیشگوئی نمبر ۱۱۲ تخمینا ۱۸۹۸ء پیشگوئی نمبر ۱۱۳ قریباً ۱۸۸۸ء ایک دفعہ الہام ہوا بے ہوشی پھر غشی پھر موت تفہیم ہوئی کہ آئے گا ہمارے بڑے مخلص مریدوں میں سے کسی کو ایسا واقعہ پیش آ۔ ۔ یعنی پہلے بے ہوشی ہو گی پھر غشی طاری ہوگی پھر مر جائے گا۔ یہ الہام یہاں رہنے والے احباب کو سنایا گیا اور خطوط کے ذریعہ سے باہر بھی لکھا گیا تھا آخر ایک دو ہفتہ کے اندر ہمارے مخلص مرید ڈاکٹر بوڑے خان صاحب اسٹینٹ سرجن قصور عین الہام کے الفاظ کے مطابق یک دفعہ بے ہوش ہو کر اور پھر غش میں پڑ کر فوراً فوت ہو گئے اور ان کی وفات کا تار آیا۔ کے ایک دفعہ ہمیں لدھیانہ سے پٹیالہ جانے کا اتفاق ہوا روانہ ہونے سے پہلے الہام ہوا کہ اس سفر میں کچھ نقصان ہوگا اور کچھ ہم فلم پیش آئے گا پیشگوئی تخمینا ۱۸۹۸ء قریباً ۱۸۸۸ء اس پیشگوئی کی خبر ہم نے اپنے ہمراہیوں کو دے دی چنانچہ جب کہ ہم پٹیالہ سے واپس آنے لگے تو عصر کا وقت تھا ایک جگہ ہم نے نماز پڑھنے کے لئے اپنا چوغہ اتار کر سید محمد حسن خان صاحب وزیر ریاست کے ایک نوکر کو دیا تا کہ وضو کریں پھر جب نماز سے فارغ ہو کر ٹکٹ لینے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو معلوم ہوا کہ جس رومال میں روپے باندھے ہوئے تھے وہ رومال گر گیا ہے تب ہمیں وہ الہام یاد آیا کہ اس نقصان کا ہونا ضروری تھا پھر جب ہم گاڑی پر سوار ہوئے تو راستہ میں ایک اسٹیشن دو راہہ پر ہمارے ایک رفیق کو کسی مسافر انگریز نے لے اس نشان کے گواہ بہت آدمی یہاں کے اور دیگر مقامات کے ہیں مثلاً مولوی عبد الکریم صاحب۔ مولوی نورالدین صاحب مفتی محمد مولوی محمدعلی مدین صاحب مفتی محمد صادق صاحب مولوی محمد علی صاحب۔ مولوی شیر علی صاحب۔