عصمتِ انبیاءؑ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 563 of 822

عصمتِ انبیاءؑ — Page 563

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۵۵۹ نزول المسيح تاریخ بیان نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے ندرجہ ذیل پیشگویاں بلائیں جودنیا پر اب ہوچکیں تاری امور بقیہ پیشگوئی نمبر ۴۳ زنده گواه رویت رو سے دعاؤں کے قبول ہونے سے منکر تھا اس طرف توجہ دلائی اور اس کے سامنے اپنی دعا سے لیکھرام کے مارے جانے کی نظیر پیش کی حالانکہ لیکھر ام ابھی زندہ پھرتا تھا اور میں نے سید احمد خان کو مخاطب کر کے کتاب برکات الدعا میں لکھا کہ لیکھرام کی موت کے لئے میں نے دعا کی ہے اور وہ دعا قبول ہو گئی سو آپ کے لئے نمونہ کے طور پر یہ دعائے مستجاب کافی ہے مگر اس تحریر پر ہنسی کی گئی کیونکہ لیکھر ام ابھی زندہ اور ہر طرح سے تندرست اور توہین اسلام میں سخت سرگرم تھا اور میں نے اس مراد سے کہ لوگ پیشگوئی کو یاد کر لیں اشعار میں سید احمد خان کو مخاطب کیا اور وہ اشعار یہ ہیں جو برکات الدعا میں درج ہیں۔ روئے دلبر از طلبگاران نمیدارد حجاب میدرخشد در خور و می تابد اندر ماهتاب لیکن این روئے حسین از غافلان ماند نهان عاشقی باید که بردارند از بهرش نقاب دامن پاکش زنخوت ہانے آید بدست بیچ راہے نیست غیر از عجز و درد و اضطراب بس خطرناک است راه کوچه یار قدیم جان سلامت بایدت از خود روی با سر بتاب تا کلامش عقل و فہم ناسزایان کم رسد هر که از خود گم شود او یا بد آن راه صواب مشکل قرآن نه از ابنائے دنیا حل شود ذوق آن میداند آن مستی که نوشد آن شراب اے کہ آگاهی ندادندت از انوار درون در حق ما ہر چہ گوئی نیستی جائے عتاب از سر وعظ و نصیحت این سخن با گفته ایم تا مگر زیں مر ہے یہ گردد آن زخم خراب از دعا کن چاره آزار انکار دعا چوں علاج کے زمے وقت خمار و التہاب ایکہ گوئی گر دعاہا را اثر بودے کجاست سوئے من بشتاب نمائیم ترا چون آفتاب ہاں مکن انکار زیں اسرار قدرتہائے حق قصه کوتاه کن به بین از ما دعائے مستجاب ۔ پیشگوئی یعنی دعائے موت لیکھرام شیخ محمد خان صاحب وزیر آباد۔ ڈاکٹر میرزا یعقوب بیگ صاحب پروفیسر میڈیکل کالج لاہور منشی نواب خان صاحب تحصیلدار گوجرات ۔ میاں معراج الدین صاحب لاہور ۱۸۲