اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 129

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۹ ست بچن چاروں وید کہانی ۔ سادھ کی مہما وید نجانی نانک بر هم گیانی آپ پرمیشر ۔ کیا وید پڑھنے والے ﴿۱۷﴾ مر گئے اور نانک جی آدی اپنے کو امر سمجھتے تھے کیا وے نہیں مر گئے وید تو سب وڈھیاؤں کا بھنڈار ہے پرنتو جو چاروں ویدوں کو کہانی کہے اُس کی سب باتیں کہانی ہیں۔ جو مورکھوں کا نام سنت ہوتا ہے وے بیچارے ویدوں کی مہما کبھی نہیں جان سکتے جو نانک جی ویدوں ہی کا مان کرتے تو اُن کا سمپر دائے نہ چلتا نہ وے گرو بن سکتے تھے کیونکہ سنسکرت ودھیا تو پڑھے ہی نہیں تھے تو دوسرے کو پڑھا کر ششیہ کیسے بنا سکتے تھے۔ باقی ترجمہ یہ ہے کہ نانک جی اپنے سکھوں کے رو برو دید کے مخالف باتیں کیا کرتے تھے یعنی ایسی تعلیم دیتے تھے جو وید کی تعلیم کے برعکس ہوتی اور کبھی کوئی موافق بات بھی کہتے مگر دل سے نہیں بلکہ اس خوف سے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ یہ خدا کا قائل نہیں یعنی نا یعنی نا نک ایک منافق آدمی تھا وہ در حقیقت ویدوں کی تعلیم سے دل ۔ سے بیزار تھا کبھی ویدوں کے موافق کوئی بات اس لئے کہتا تھا کہ تا ہندوؤں کو دھو کہ دیوے اور وہ لوگ سمجھیں کہ یہ شخص ہندو مذہب سے بکلی دست بردار نہیں سو یہ کارروائی لوگوں کے ڈر سے تھی نہ سچے دل سے اور پھر دیانند اپنی اس رائے کی تائید کے لئے کہ نانک در حقیقت ہندو مذہب اور ویدوں سے الگ ہو گیا تھا با وانا تک صاحب کا مندرجہ ذیل شعر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور وہ شعر یہ ہے۔ وید پڑھت برہما مرے چاروں وید کہانی سادھ کی مہما وید نجانی۔ نانک برہم گیانی آپ پر میشر یعنی وید پڑھتے پڑھتے بر ہما مر گیا اور حیات جاودانی حاصل نہ ہوئی چاروں وید کہانی یعنی یا وہ گوئی ہے اور خدا تعالیٰ کی وہ تعریف جو راستباز کیا کرتے ہیں ویدوں کو معلوم نہیں یعنی وہ حمد و ثناء اللہ جل شانہ کی جو صادق کے منہ سے نکلتی ہے اور وہ سچی تعریف اُس کی اور سچی شناخت اُس کی جو عارفوں کو حاصل ہوتی ہے چاروں وید اُس سے محروم اور بے نصیب ہیں کیونکہ اے نانک یہ پرمیشر کا خاصہ ہے جو صحیح ہے جو صیح اور پاک علم سے خاص ہے یعنی ویدوں نے جو صراط مستقیم کو چھوڑ دیا اور گمراہی کی راہیں بتلائیں اس میں وید معذور ہیں کیونکہ وہ اس ایشر برہم گیانی کی طرف سے نہیں ہیں سہو کتابت ہے۔ ہندی متن میں سنت لکھا ہے۔ (ناشر)