اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 128

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۸ ست بچن اُن کا دعویٰ کر دیا مگر یہ سب شرارت ہے با واصاحب ایک خاکسار آدمی تھے پنڈت بننے کا اُن کو شوق نہیں تھا یہ ریا کاریاں وہ لوگ کیا کرتے ہیں جو دنیا پر نظر رکھتے ہیں مگر افسوس کہ نادان انسان ہر ایک آدمی کو اپنے نفس پر قیاس کر لیتا ہے اس لئے یہ مرض اس کالا علاج ہے۔ قولہ۔ جب کچھ ابھمان تھا تو مان پر تشٹھا کے لئے کچھ مجھ بھی کیا ہوگا یعنی کچھ لالچ اور دل کی خواہش تھی اس پر کچھ غرور بھی کیا ہوگا ۔ اقول اس فقرہ میں دیا نند نے یہ ظاہر کیا ہے کہ نا تک ایک لالچی اور مغرور آدمی تھا اور تمام فقیری اُس کی اسی غرض سے تھی ۔ اب ناظرین خیال کریں کہ اس سے زیادہ تر سخت الفاظ اور کیا ہوں گے۔ ایسے سکھ صاحبوں پر نہایت افسوس ہے کہ اُن کے گرو کی نسبت ایسے ایسے سخت کلمے کہے جائیں اور پھر بھی وہ آریوں سے محبت کے تعلقات رکھیں بھلا وہ ذرہ انہیں الفاظ سے دیانند کو یاد کر کے کوئی اشتہار دے دیں پھر دیکھیں کہ کیونکر آریہ صبر کرتے ہیں اگر باوا صاحب سے سچی محبت اور اُن کے لئے سچی غیرت ہے تو اُس کا نمونہ دکھلانا چاہئے۔ قولہ ۔ اُن سے کوئی وید کا ارتھ پوچھتا جب نہ آتا تب پر تشٹھا نشٹ ہوتی یعنی اگر کوئی اُن سے کوئی وید کا مطلب پوچھتا اور اُن سے کچھ بن نہ آتا تو سب کا ریگری بر باد جاتی اور تمام قلعی گھل جاتی ۔ اقول یہ تمام گالیاں ہیں اس کا ہم کیا جواب دیں مگر دیا نند سے کوئی پوچھے کہ کیا تیری قلعی کھلی یا نہیں کیا ایسے عقیدوں کے شائع کرنے سے کہ ہر یک جان کا پرمیشر سہارا نہیں اور نجات جاودانی نہیں اور ہر ایک فیض کا پرمیشر مبدء نہیں اور خاوند والی عورت دوسرے سے ہمبستر ہو۔ کیا اس سے تیری تمام کاریگری برباد ہو چکی یا اب تک کچھ باقی ہے دیانند کو اس بات پر سارا غصہ ہے کہ باوا صاحب وید کے ان عقائد کو قبول نہیں کرتے تھے اور انہوں نے بہت زور سے ان باتوں کا رڈ لکھا ہے۔ قولہ اپنے شیشیوں کے سامنے کہیں کہیں ویدوں کے ورودھ بولتے تھے اور کہیں کہیں وید کے لئے اچھا بھی کہا ہے کیونکہ جو کہیں اچھا نہ کہتے تو لوگ اُن کو ناستک بناتے جیسے کہ۔ وید پڑھت بر ہما مرے