اِعجاز المسیح — Page 617
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۶۱۳ نزول المسيح ١٩٠٠ء پیشگوئی نمبر ۱۱۸ پیشگوئی ١٩٠٠ء تاریخ بیان نمبر شمار یا جس وجی سے میں مشرف کیا گیا ہوں اس وحی نے ندرجہ ذیل پیشگوئیں بلائیں جو نیا راہ ہوچکیں تاری امور ایک دفعہ مجھے مرض ذیا بیطس کے سبب بہت تکلیف تھی کئی دفعہ شنوا بنوا مرتبہ دن میں پیشاب آتا تھا ۔ دونوں شانوں میں ایسے آثار نمودار ہو گئے ۔ جن سے کار بنکل کا اندیشہ تھا۔ تب میں دعا میں مصروف ہوا تو یہ الہام ہوا ” والموت اذا عسعس یعنی قسم ہے موت کی جبکہ ہٹائی جائے۔ چنانچہ یہ الہام بھی ایسا پورا ہوا کہ اس وقت سے لے کر ہمیشہ ہماری زندگی کا ہر ایک سیکنڈ ایک نشان ہے۔ میرے چوتھے لڑکے مبارک احمد کی پیدائش سے دو ماہ پہلے یہ الہام ہوا تھا ۔ ربّ اصح زوجتي هذه یعنی اے میرے پیشگوئی نمبر ۱۱۹ ۱۳ اپریل ۱۸۹۹ء زنده گواه رویت انواء رب میری اس زوجہ کو بیمار ہونے سے بچا اور بیماری سے شفا دے۔ جس وقت یہ الہام ہوا اس وقت میری بیوی بالکل تندرست تھی گویا اس الہام میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ کسی بیماری کا اندیشہ ہے لیکن بعد میں شفا ہو جائے گی ۔ چنانچہ دو ماہ کے بعد یہ الہام ہر دو پہلو سے پورا ہوا ۔ یعنی میری بیوی کو ایک سخت مرض نے گھیرا اور خطرناک حالت ہوئی لیکن آخر اللہ تعالیٰ نے شفادی ہے ایک دفعہ مجھے الہام ہوا ” ربّ ارني كيف تحى الموتى رب اغفر و ارحم من السماء ۔ اے میرے رب مجھے دکھا کہ تو مردہ ۱۳ / جون ۱۸۹۹ء انواء لے اس کے گواہ مولوی عبدالکریم صاحب ۔ مولوی نور الدین صاحب۔ مولوی محمد علی صاحب مفتی محمد علی صاحب ۔ مولوی شیر علی صاحب و دیگر احباب ہیں اور دوسرے شہروں میں بذریعہ خطوط کے یہ الہام لکھے گئے ۔ مفتی محمد صادق صاحب۔ (شمس) ۲۳۵