اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 822

اِعجاز المسیح — Page 268

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۴ الهدى والابتهال ۔ حتى بانت أمارة الاستجابة۔ وانجابت غشاوة الاسترابة۔ آخر کار قبول کے نشان ظاہر ہوئے اور شک شبہ کا پردہ پھٹ گیا ووفقت لتأليف ذالك الكتاب۔ فسأرسله إليه بعد الطبع و اور مجھے اس کتاب کی تالیف کی توفیق بخشی گئی ۔ سو میں بعد چھپ جانے اور اس کے بابوں کی تكميل الأبواب۔ فإن أتى بالجواب الحسن وأحسن الرد تکمیل کے اس کی طرف بھیجوں گا۔ پھر اگر منار نے اس کا جواب خوب دیا اور عمدہ رڈ کیا تو میں عليه۔ فأحرق كتبى وأقبل قدميه۔ وأعلق بذيله۔ وأكيل الناس اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کے پاؤں چوم لوں گا اور اس کے دامن سے لٹک جاؤں گا اور پھر بكيله۔ وها أنا أقسم برب البرية۔ أؤكد العهد لهذه الألية۔ و لوگوں کو اس کے پیمانہ سے ناپوں گا۔ اور لو میں پروردگار جہان کی قسم کھاتا ہوں اور اس قسم سے إن كَلم الأحرار بكلام أشد جرحًا من جرح سهام۔ بل هو عہد کو پختہ کرتا ہوں۔ اور شریفوں کا زخمی کرنا کلام سے زخم میں سخت تر ہوتا ۔ اہے تیروں کے زخم أشق عليهم من قتـلـهـم بلهذم وحسام۔ وإن جراحات السنان سے۔ بلکہ نیزہ اور تلوار کے ساتھ قتل کرنے سے بڑھ کر ان پر گراں ہوتا ہے۔ اور یہ پختہ بات لها التيام ۔ ولا يلتام ما جرح كلام۔ وأما ما ادعى ہے کہ نیزوں کے زخم تو مل جاتے ہیں پر کلام کے زخم نہیں ملتے۔ لیکن جو اس نے معارف اور من المعارف والفصاحة۔ كما يُفهم من قوله بالبداهة۔ فهى فصاحت کا دعوی کیا ہے جیسا کہ ظاہراً اس کے کلام سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس کا نرا دعوی ہی مقالة هو قائلها ولا نقبله إلا بعد ثبوت النباهة۔ وما اتظني دعوئی ہے اور ہم اسے مان نہیں سکتے جب تک وہ اپنی بزرگی کا ثبوت نہ دے اور أن يكتب المنار من معارف كمعارف كتابي۔ ويرى میرے تو خیال میں بھی نہیں آسکتا کہ منار میری کتاب جیسے معارف لکھ سکے۔ اور میری تلوار