اِعجاز المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 267 of 822

اِعجاز المسیح — Page 267

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۳ الهدى إلى الاحياء ۔ وأَحْسَسْتُ أن فتنتهم هذه تضر العامة كالأغلوطات۔ دوست پھر اپنے اپنے قبیلہ میں واپس کئے گئے ہیں اور میں نے محسوس کیا کہ ان کا یہ فتنہ عام ويُعدّون هذه الأقوال من الشهادات القاطعات۔ وكفى هذا القدر 19 لوگوں کو دھوکے میں ڈال کر سخت ضرر دے گا اور ان باتوں کو وہ بڑی پکی گواہی سمجھیں گے۔ اور لخدع بعض الجهلاء ۔ وإغلاط بعض البله قليل الدهاء ۔ فرأيتُ | بعض جاہلوں کے فریب دینے کو اور بعض کم عقل سادہ لوگوں کے دھوکا دینے کو بس ہے۔ پس جوابه على نفسى حقا واجبًا لا يوضع وزره بدون القضاء ۔ ودينا لازما میں نے اس کا جواب دینا اپنے اوپر حق واجب سمجھا جس کا بوجھ ادا کئے بغیر اتر نہیں سکتا اور لا يسقط حبة مـــنــــه بـغيـر الأداء ۔ فإن دفع أوهام العامة من لازم قرض یقین کیا جس میں سے ایک حبہ بھی ادا کرنے کے سوا ذمہ سے نہیں اتر سکتا۔ واجبات الوقت وفرائض الإمامة۔ فقلبت وجهي في السماء ۔ اس لئے کہ عام کے وہموں کو دور کرنا واجبات وقت اور امامت کے فرائض سے ہے۔ پھر میں وطلبت عون الله بالبكاء والدعاء ۔ ليهديني إلى طريق إتمام آسمان کی طرف منہ کر کے دیکھنے لگا اور دعا اور زاری سے خدا سے مدد مانگنے لگا اس لئے کہ مجھے الحجة۔ وإحقاق الحق وإبطال الباطل وإيضاح المحجة۔ فألقى حجت کو پورا کرنے اور حق کو حق کر دکھانے اور باطل کو نابود کرنے اور رستہ کے واضح کرنے کی في روعى أن أُؤلف كتابا لهذا المراد ۔ ثم أطلب مثله من راہ بتائے ۔ پس میرے دل میں ڈالا گیا کہ میں اس غرض کے لئے ایک کتاب بناؤں پھر اس هـذا الـمـديـر ومـن كـل مـن نهض بالعناد من تلك البلاد۔ وكنت کی مثل مانگوں اس ایڈیٹر سے اور ہر ایسے شخص سے جو اُن شہروں سے دشمنی کی غرض سے أقبل على الله كل الاقبال وأسعى في ميادين التضرع اٹھے۔ اور میں خدا کی طرف پورا پورا متوجہ تھا اور زاری اور فریاد کے میدانوں میں دوڑ رہا تھا۔