حُجة الاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 502

حُجة الاسلام — Page 380

روحانی خزائن جلد ۶ ۳۷۸ شهادة القرآن گورنمنٹ کی توجہ کے لائق یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گذارش کرتا ہے کہ باعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار میرزا غلام مرتضی مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں اس لئے نہ کسی تکلف سے بلکہ میرے رگ وریشہ میں شکر گذاری اس معزز گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجالائے ۔ اُنہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گزاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچے دل اور تہ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔ سن ستاون کے مفسدہ میں جبکہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیا تب میرے والد بزرگوار نے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چوراہ سوار سے خدمت گزاری کی اور انہیں مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے چنانچہ جناب گورنر جنرل کے دربار میں عزت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی تھی اور ہر ایک درجہ کے حکام انگریزی بڑی عزت اور دلجوئی سے پیش آتے تھے انہوں نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گزاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی تمام عمر نیک نامی کے ساتھ بسر کر کے اس نا پائدار دنیا سے گذر گئے بعد اس کے اس عاجز کا بڑا بھائی میرزا غلام قادر جس قدر مدت تک زندہ رہا اُس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر ب قدم مارا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں بدل و جان مصروف رہا پھر وہ بھی اس مسافر خانہ سے گزر گیا ۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اب بھی بہت سے حکام انگریز بقید حیات ہوں گے جنہوں نے میرے والد صاحب کو دیکھا اور اُن کی مخلصانہ خدمات کو بچشم خود مشاہدہ کیا ہے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے گورنر “ ہونا چاہیے۔ (ناشر)