حقیقة المہدی — Page 34
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۴ نجم الهدى وعلمهم المعارف الإلهية، ووقم اور معارف الہیہ ان کو سکھلائے اور حضرت أعنتهم إلى حضرة العزة والجلال عزت اور جلال کی طرف اُن کی باگیں پھیریں تا ☆ ليترعوا من حدائق القرب لعاع الحب وہ قرب کے سبزہ گاہوں سے محبت کا سبزہ چکیں ويكون لهم عند الله زلفى وصدق الحال اور خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کو مقام قرب اور صدق حال میسر آوے۔ پس خلاصہ یہ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت تین قسم پر منقسم تھی ۔ پہلی یہ کہ وحشیوں کو انسان بنایا فالغرض أن تعليم كتاب الله الأحكم ورسول الله صلى الله عليه | وسلم كان منقسما على ثلاثة أقسام ۔ الأول أن يجعل الوحوش أناسًا، ويعلمهم آداب الإنسانية ويهب جائے اور انسانی آداب اور حواس اُن کو عطا کئے لهم مدارک وحواسًا ۔ والثاني أن جائیں اور دوسری یہ کہ انسانیت سے ترقی دے يجعلهم بعد الإنسانية أكمل الناس | في محاسن الأخلاق والثالث كر اخلاق کاملہ کے درجے تک اُن کو پہنچایا أن يرفعهم من مقام الأخلاق جائے اور تیسری یہ کہ اخلاق کے مقام سے اُن إلى ذرى مرتبة حُبّ الخلاق کو اُٹھا کر محبت الہی کے مرتبہ تک پہنچایا جائے و معارف الهیه بدیشان بیا موخت و زمام شان را به حضرت عزت وجلال بکشید - تا اوشاں از مرغزار ہائے قرب سبزه محبت را بچرند و در نزدیکی خدا مقام قرب وصدق حال شاں میسر آمد ۔ خلاصه تعلیم قرآن حکیم ہم و و ہدایت ہدا یہ رسول کریم سه نوع بوده است - اولاً اولاً آنکه و حوش و انعام را انسان بسازد و جمیع آداب انسانیت بیاموزد و حواس کامله آدمیت عطا بفرماید ۔ ثانیاً آنکه بعد انسانیت اوشان را از روئی محاسن اخلاق کامل ترین مردم نماید و ثالثاً آنکه از مقام اخلاق بر گرفته تا کنگره حب خلاق برساند و سہو کتابت معلوم ہوتا ہے لیر تعوا “ہونا چاہیے۔(ناشر)