حقیقة المہدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 550

حقیقة المہدی — Page 110

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۱۰ نجم الهدى عرضتها على العلماء وقلت میں نے اس ملک کے علماء پر وہ کتابیں پیش يا حزب الفضلاء والأدباء ! کیں اور کہا کہ اے فاضلو اور ادبیو! تمہارا إنكم حسبتمونى أُميًا ومن الجهلاء میری نسبت یہ گمان تھا کہ میں اُمی اور جاہل ہوں هو شان الكمل من الامة۔ وكذالك پائے ۔ ان پر اور ہمارے نبی پر سلام وجد ارثا من كمالات ابن مریم علیه | ہو۔ اور جبکہ مسیح موعود کی حقیقت ان سلام الله وعلى نبينا الذي جعله | بقيه حان حاشیه دونوں مذکورہ حقیقتوں میں غرق تھی اور الله اشرف واكرم۔ ولما كانت ان میں مضحل اور متلاشی تھے اور ان کی بقية الحاشية حقيقة المسيح الموعود معمورة في | الحقيقتين المذكورتين۔ ومضمحلة متلاشية فيهما ومنعدم العين صفتوں کے پیرو تھے اس لئے ان دونوں ومستتبعة لصفا تهما في الدارين ۔ غلب عليها اسمهما ولم يبق منها اسم برگزیدوں کا نام اس پر غالب ہوا اور اس کا اپنا نام و نشان کچھ نہ رہا اور مغلوب معدوم ہو گیا اور غالب کا نام رہ گیا ۔ و رسم في الكونين۔ وانعدم المغلوب اور اس کے لئے آسمانوں پر ان دونوں و بقى فيه اسم الغالب و تقرر له في مبارکوں کے نام رہ گئے ۔ یہ وہ ستر ہے جس کو السماء اسم هذين المباركين۔ هذا ما | خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا اور اوقعه الله في بالی و تلقاه حدسی و خدا تعالیٰ کی طرف سے میری فراست نے فراستی من لدن ربي لاكمالي واما اس کو قبول کیا ۔ مگر وہ امر جو مسلمانوں و در پیش علماء ایں بلا د عرض نمودم و گفتم اے فضا م و گفتم اے فضلاء واد با شماها نسبت بمن گمان داشتید که من مرد جابل واتمه هستم ۔ مسیح موعود را ظلا تشریف آن شان عطا فرمودند تا اواز میں حلیہ و طبیعت عاری مانده ازین کمال محروم نماند زیرا کہ حرمان شایاں شان اطلال نمی باشد - آخر مسیح موعود ازاں درخت میوه تازه و تر یافت وظلیت نبوت در آب خودش غوطه بداد چنانچه شان کا ملان امت بوده است - منه بقیه حاشيه