حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 72

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۷۲ حقيقة الوحى اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص ر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے تو میرے پر اس تکذیب اور توہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کر ورنہ اُس کو عذاب میں مبتلا کر۔ آمین ہر ایک کے لئے کوئی تازہ نشان طلب کرنے کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس دعائے مباہلہ کے بعد جس کو عام طور پر مشتہر کرنا ہوگا اور کم سے کم تین نامی اخباروں میں درج کرنا ہوگا ایسا شخص جو اس تصریح کے ساتھ قسم کھا کر مباہلہ کرے اور آسمانی عذاب سے محفوظ رہے تو پھر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں ۔ اس مباہلہ میں کسی میعاد کی ضرورت نہیں ۔ یہ شرط ہے کہ کوئی ایسا امر نازل ہو جس کو دل محسوس کر لیں ۔ اب چند الہام الہی ذیل میں مع ترجمہ لکھے جاتے ہیں جن کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ایسے مباہلہ کرنے والے کے لئے یہ ضروری ہوگا کہ وہ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر ان تمام میرے الہامات کو اپنے اس مضمون مباہلہ میں ( جس کو شائع کرے) لکھے اور ساتھ ہی یہ اقرار بھی شائع کرے کہ یہ تمام الہامات انسان کا افترا ہے خدا کا کلام نہیں ہے اور یہ بھی لکھے کہ ان تمام الہامات کو میں نے غور سے دیکھ لیا ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ انسان کا افترا ہے یعنی اس شخص کا افترا ہے اور اس پر کوئی الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا بالخصوص عبد الحکیم خان نام ایک شخص جو اسٹینٹ سرجن پٹیالہ ہے جو بیعت توڑ کر مرتد ہو گیا ہے خاص طور پر اس جگہ مخاطب ہے۔ اب ہم وہ الہامات بطور نمونہ ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہیں: ان الہامات کی ترتیب بوجہ بار بار کی تکرار کے مختلف ہے کیونکہ یہ فقرے وحی الہی کے کبھی کسی ترتیب سے کبھی کسی ترتیب سے مجھ پر نازل ہوئے ہیں اور بعض فقرے ایسے ہیں کہ شائد نواسنوا دفعہ یا اس سے بھی زیادہ دفعہ نازل ہوئے ہیں پس اس وجہ سے ان کی قراءت ایک ترتیب سے نہیں اور شائد آئندہ بھی یہ ترتیب محفوظ نہ رہے کیونکہ عادت اللہ اسی طرح سے واقع ہے کہ اس کی پاک وحی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زبان پر جاری ہوتی اور دل سے جوش مارتی ہے۔ پھر خدا تعالیٰ ان متفرق ٹکڑوں کی ترتیب آپ کرتا ہے اور کبھی ترتیب کے وقت پہلے ٹکڑہ کو عبارت کے پیچھے لگا دیتا ہے اور یہ ضروری سنت ہے کہ وہ تمام فقرے کسی ایک ہی خاص ترتیب پر نہیں رکھے جاتے بلکہ ترتیب کے لحاظ سے ان کی قراءت مختلف طور پر کی جاتی ہے اور بعض فقرے مکر روحی میں پہلے الفاظ سے کچھ بدلائے جاتے ہیں۔ یہ عادت صرف خدا تعالیٰ کی خاص ہے وہ اپنے اسرار بہتر جانتا ہے۔ منہ