حقیقةُ الوحی — Page 604
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۶۰۴ تتمه حقيقة الوحى فیصلہ بذریعہ مباہلہ کا ایک اور تازہ نشان ☆ نشان۔۲۰۷۔ ذیل میں وہ مباہلہ درج کیا جاتا ہے جو ہماری جماعت کے ایک ممبر منشی مہتاب علی صاحب نے فیض اللہ خان بن ظفر الدین احمد سابق پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور کے ساتھ ۲ ارجون ۱۹۰۶ ء کو کیا تھا۔ اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فیض اللہ خان اپنی خواہش کے مطابق مرض طاعون میں گرفتار ہو کر ۱۳ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم بیساکھ س19 میں نہ صرف خود ہی ہلاک ہوا بلکہ اپنے بعض دیگر عزیزوں کو بھی لے ڈوبا۔ سم اس جگہ اس بات کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ اس شخص فیض اللہ خاں کا باپ قاضی ظفر الدین بھی ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا اور جب اُس نے اس سلسلہ کے برخلاف ایک عربی نظم لکھنی شروع کی تو ہنوز اُسے یا روع کی تو ہنوز اُ سے پورا نہ کر چکا تھا اور مسودہ اُس کے گھر میں تھا۔ میں تھا۔ چھاپنے تک نوبت نہ پہنچی تھی کہ وہ مر گیا ۔ اب اس مباہلہ کی تحریر کی عبارت طرفین کی نقل کی جاتی ہے۔ دونوں فریق کی دستخطی تحریریں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ تحریر و تخطی فیض اللہ خان بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ الحمد لله الذي لا يضر مع اسمه شئ في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم۔ بعد حمد وصلوات برسول رب العالمین کے میں قاضی فیض اللہ خان بن قاضی ظفر الدین احمد مرحوم ایک مسلمان حنفی سنت نبویہ کا پورا تا بعد ار اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کہ خاتم النبین ایک قصیدہ میں نے عربی میں تالیف کیا تھا جس کا نام اعجاز احمدی رکھا تھا اور الہامی طور پر بتلایا گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اور اگر طاقت بھی رکھتا ہوگا تو خدا کوئی روک ڈال دے گا ۔ پس قاضی ظفر الدین جو نہایت درجہ اپنی طینت میں خمیر انکار اور تعصب اور خود بینی رکھتا تھا اُس نے اس قصیدہ کا جواب لکھنا شروع کیا تا خدا کے فرمودہ کی تکذیب کرے۔ پس ابھی وہ لکھ ہی رہا تھا کہ ملک الموت نے اُس کا کام تمام کر دیا ۔ منہ (۱۶۵