حقیقةُ الوحی — Page 581
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۱ تتمه حقيقة الوحى کہ میں آپ کے افترا کی وجہ سے کسی انسانی عدالت میں آپ پر نالش نہیں کروں گا۔ سو میں کہتا ۱۴۳ ہوں کہ میں نہ صرف انسانی عدالت میں نالش کروں گا بلکہ میں خدا کی عدالت میں بھی نالش نہیں کرتا لیکن چونکہ آپ نے محض جھوٹے اور قابل شرم الزام میرے پر لگائے ہیں اور مجھے ناکردہ گناہ دکھ دیا ہے اس لئے میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ میں اس وقت سے پہلے مروں جب تک کہ میرا قادر خدا ان جھوٹے الزاموں سے مجھے بری کر کے آپ کا کاذب ہونا ثابت نہ کرے۔ أَلَا إِنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِين اس کے متعلق قطعی اور یقینی طور پر مجھ کو ار دسمبر ۱۹۰۰ ء روز پنجشنبہ کو یہ الہام ہوا بر مقام فلک شده یا رب گر امیدے دہم مدار عجب۔ بعداا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ مگر بہر حال ایک نشان میری بریت کے لئے اس مدت میں ظاہر ہوگا جو آپ کو سخت شرمندہ کرے گا ۔ خدا کی کلام پر ہنسی نہ کرو۔ پہاڑ ٹل جاتے ہیں دریا خشک ہو سکتے ہیں موسم بدل جاتے ہیں مگر خدا کا کلام نہیں بدلتا جب تک پورا نہ ہوئے۔ اسی طرح میری کتاب اربعین نمبر ۴ صفحہ ۱۹ میں بابو الہی بخش صاحب کی نسبت یہ الہام ہے يريدون أن يروا طمنك والله يريد ان يـريـك انــامــه الانعامات المتواترة۔ انت منی بمنزلة اولادى والله وليک و ربک فقلنا یا نارکونی بردًا یعنی با بوالہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی پلیدی اور نا پا کی پر اطلاع پائے مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے۔ اور تجھ میں حیض نہیں بلکہ وہ بچہ ہو گیا ہے ایسا بچہ جو بمنزلہ اطفال اللہ ہے یعنی حیض ایک نا پاک چیز ہے مگر بچہ کا جسم اسی سے تیار ہوتا ہے۔ اسی طرح جب انسان خدا کا ہو جاتا ہے تو جس قدر فطرتی ناپا کی اور گند ہوتا ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہوتا ہے اُسی سے ایک روحانی جسم تیار ہوتا ہے۔ یہی طمت انسانی ترقیات کا نتیجہ ہے۔ اسی بناء پر صوفیہ کا قول ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو انسان کوئی ترقی نہ کر سکتا۔ آدم کی ترقیات کا بھی یہی موجب ہوا ۔ اسی وجہ سے ہر ایک نبی مخفی کمزوریوں پر نظر کر کے استغفار