حقیقةُ الوحی — Page 580
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۸۰ تتمه حقيقة الوحى ۱۴۲ صرف ایک نام سے ہی فیصلہ کر دیا یعنی کذاب جس کے معنی یہ ہیں کہ میں نے گویا خدا تعالیٰ پر حد سے زیادہ جھوٹ بولا اور اپنے افترا کو خدا کی طرف منسوب کر دیا ہے۔ جو لوگ عصائے موسیٰ کا صفحہ ۴ اور صفحہ کے پڑھیں گے اُن کو معلوم ہوگا کہ یہ تہمت جو بابو صاحب نے میرے پر لگائی ہے اس کا فیصلہ میں نے خدا تعالیٰ سے چاہا ہے اور جھوٹے پر خدا کی لعنت کی ہے۔ پھر ماسوا اس کے خود قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو اُس پر افترا کرے وہ سزا سے نہیں بچے گا۔ اور جو شخص خدا کے کلام کی تکذیب کرے وہ بھی سزا سے نہیں بچے گا۔ پس اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ ۶ را پریل ۱۹۰۷ کو بابو الہی بخش صاحب کا طاعون سے مرنا درحقیقت یہ خدا تعالیٰ کا ایک فیصلہ تھا جو آخر اس کی عدالت سے صادر ہو گیا۔ اب چاہے کوئی قبول کرے یا نہ کرے ۔ مگر بموجب حديث من عادى لي وليا فقد أذنته للحرب بابو صاحب نے اس لڑائی کا انجام دیکھ لیا ہے اب اُن کے رفیق کہتے ہیں کہ وہ شہید ہو گئے مگر میری دعا ہے کہ تمام مفسد اور مخالف حق کے ایسے ہی شہید ہو جائیں۔ امین ثم آمین جو با بوالہی بخش صاحب اکو نٹنٹ باب دوم اُن الہامات کے بیان میں جو ا وا کے بارے میں خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کئے با بوالہی بخش صاحب نے جب کتاب عصائے موسیٰ تالیف کی تو اس تالیف کا باعث یہی تھا کہ انہوں نے مجھے فرعون قرار دیا اور اپنے تئیں موسیٰ ٹھہرایا اور بار بار لکھا کہ مجھے خدا سے الہام ہوتے ہیں کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور مفتری ہے۔ تب میں نے اُن کی کتاب پڑھ کر اپنے رسالہ اربعین نمبر ۴ کے حاشیہ پر مندرجہ ذیل عبارت لکھی جس میں ایک پیشگوئی اور دعا ہے اور وہ یہ ہے۔ افسوس کہ اُنہوں نے (یعنی با بوالہی بخش صاحب نے) آیت وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لِّمَزَةِ کے ویل کے وعید سے کچھ بھی اندیشہ نہیں کیا اور نہ اُنہوں نے آیت وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بہ علم کی کچھ بھی پروا کی۔ وہ بار بار میری نسبت لکھتے ہیں کہ میں نے اُن نے اُن کو تسلی دے دی سہو کتابت ہے۔ ے ا پریل ۱۹۰۷ء ہونا چاہیے جس کی تصدیق کتاب ہذا کے صفحہ ۵۴۰ اور صفحہ ۵۴۴ سے ہوتی ہے۔ (ناشر) ا الهمزة : ٢ بنی اسرائیل : ۳۷