حقیقةُ الوحی — Page 570
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۷۰ تتمه حقيقة الوحى انسانی فطرت کا ایک ضروری خاصہ تھا کہ جو شخص اس پیشگوئی کا دوسرا نشانہ تھا اُس کو اور اُس کے عزیزوں کو موت کا فکر پڑ جاتا جیسا کہ اگر ایک ہی کھانا کھانے سے جو دو آدمیوں نے مل کر کھایا تھا ایک اُن میں سے مر جائے تو ضرور دوسرے کو بھی اپنی موت کا فکر پڑ جاتا ہے۔ سو اسی طرح احمد بیگ کی موت نے وہ خوف باقی ماندہ نے وہ خوف باقی ماندہ شخص اور اُس کے عزیزوں پر ڈالا کہ وہ مارے ڈر کے مردہ کی طرح ہو گئے ۔ انجام یہ ہوا کہ وہ بزرگ خاندان جو بانی اس کام کے تھے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گئے ۔ اور یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا ۱۳۳ خدا کی طرف سے ایک شرط بھی تھی جو اُسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ ایتھا المرأة توبی توبي فان البلاء علی عقبکِ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کر دیا تو نکاح فتح ہو گیا یا تاخیر میں پڑ گیا ۔ کیا آپ کو خبر نہیں کہ يمحو الله مايشاء ويثبت نكاح آسمان پر پڑھا گیا یا عرش پر مگر آخر وہ سب کارروائی شرطی تھی شیطانی وساوس سے الگ ہو کر اس کو سوچنا چاہیے کیا یونٹ کی پیشگوئی نکاح پڑھنے سے کچھ کم تھی جس میں بتلایا گیا تھا کہ آسمان پر یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ چالیس دن تک اس قوم پر عذاب نازل ہوگا مگر عذاب نازل نہ ہوا حالانکہ بقیہ حاشیہ: ان کو معلوم نہیں کہ دراصل طاعون ہماری دوست اور ان کی دشمن ہے جس قدر طاعون کے ذریعہ سے ہماری ترقی تین چار سال میں ہوئی ہے وہ دوسری صورت میں پچاس سال میں بھی غیر ممکن تھی ۔ پس مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تا اس کے ذریعہ سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے طاعون کے وجود سے پہلے بذریعہ الہام مجھے خبر دی کہ دنیا میں طاعون آئے گی اور ہمارے دشمن اس سے نیست و نابود ہوتے جائیں گے مگر ہماری کثرت اس کے ذریعہ سے ہوگی پس اس سے زیادہ اندھا کون شخص ہے جو چند احدی لوگوں کا طاعون سے فوت ہونا پیش کرتا ہے اور اس سے اب تک بے خبر ہے کہ اب تک کئی لاکھ انسان طاعون نے ہماری جماعت میں داخل کر دیا اور ہر روز داخل کر رہی ہے پس مبارک ہے یہ طاعون جو ہمارے عدد کو بڑھا رہی ہے اور مخالفوں کو گھٹا رہی ہے اور حقیقت میں ہماری جماعت کا طاعون سے کوئی فوت نہیں ہوا کیونکہ ایک کے عوض ہم نے سو یا زیادہ اس سے پالیا۔ منہ