حقیقةُ الوحی — Page 494
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۹۴ تتمه حقيقة الوحى ۲۰ وہ اپنے نفس کو جانچیں اور اپنی حالت کو دیکھیں جو کچھ اُن کی زبان پر جاری ہو اُس کو کلام الہی یقین کر لیتے ہیں حالانکہ یہ ثابت شدہ امر ہے کہ وہ زبان جس پر خدا کا کلام جاری ہو سکتا ہے اُسی پر شیطان کا کلام بھی نازل ہو سکتا ہے اور حدیث النفس بھی ہو سکتی ہے پس کوئی کلام جو زبان پر جاری ہو ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو خدا کا کلام کہا جاوے جب تک دو شہادتیں اس کا منجانب اللہ ہونا ثابت نہ کریں۔ اول یہ شہادت کہ ایسا شخص جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرے پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے اُس کی ایسی حالت چاہئے جس سے معلوم ہو کہ وہ اس لائق ہے کہ اُس پر خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہو سکتا ہے کیونکہ جو شخص جس سے قریب ہوتا ہے اُسی کی آواز سنتا ہے پس جو شخص شیطان سے قریب ہے وہ شیطان کی آواز سنتا ہے اور جو خدا تعالیٰ سے قریب ہے وہ اُس کی آواز کو۔ صرف اس حالت میں کسی کو لہم من اللہ کہہ سکتے ہیں جبکہ وہ درحقیقت خدا کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے اپنی رضا مندی چھوڑ دیتا ہے اور اس کے پورے خوش کرنے کے لئے ایک تلخ موت اپنے لئے اختیار کر لیتا ہے اور اس کو سب چیز پر مقدم کر لیتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے دل کی طرف دیکھتا ہے تو اس کو تمام دنیا سے الگ اور اپنی رضا میں محو پاتا ہے اور سچ مچ ہر ایک ذرہ اس کے وجود کا خدا تعالیٰ کے راہ میں قربان ہو جاتا ہے اور اگر امتحان کیا جاوے تو کوئی چیز اس کو خدا تعالیٰ سے نہیں روک سکتی نہ دولت نہ مال نہ زن نه فرزند نه آبر و بلکہ وہ در حقیقت اپنی ہستی کا نقش مٹا دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی ایسی محبت اُس پر غالب آجاتی ہے کہ اگر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جاوے یا اس کی اولاد کو ذبح کیا جاوے یا اس کو آگ میں ڈالا جاوے اور ہر ایک تلخی اس پر وارد کی جائے تب بھی وہ اپنے خدا کو نہیں چھوڑتا اور مصیبت کے کسی حملہ سے وہ اپنے خدا سے الگ نہیں ہوتا اور صادق اور وفادار ہوتا ہے اور تمام دنیا اور دنیا کے بادشاہوں کو ایک مردہ کیڑے کی طرح سمجھتا ہے اور اگر اُس کو یہ بھی سنایا جائے کہ تو جہنم میں داخل ہوگا تب بھی وہ اپنے محبوب حقیقی کا دامن نہیں چھوڑتا کیونکہ محبت الہی اس کا بہشت ہو جاتا ہے اور وہ خود نہیں سمجھ سکتا کہ مجھ کو خدا سے کیوں ایسا تعلق ہے کیونکہ کوئی نا مرادی اور کوئی امتحان اس تعلق کو کم نہیں کر سکتا پس اس حالت میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا سے نزدیک ہے نہ شیطان سے ۔ایسے لوگ