حقیقةُ الوحی — Page 476
۴۳ روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۷۶ تتمه حقيقة الوحى پرچه اخبار آزاد انبالہ مورخہ ۱۶ فروری ۱۹۰۷ء کے صفحہ ایک میں لکھا ہے کہ دہلی میں دس دن تک برابر بارش ہو رہی ہے اور اولے بھی پڑے۔ پیسہ اخبار لاہور مورخہ ۲۳ فروری ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۲۱ میں لکھا ہے کہ متواتر اور کثیر بارش سے بنگال کی فصل نیشکر کو نقصان پہنچا۔ پیسہ اخبار ۲۹ فروری ۱۹۰۷ء میں بھی لکھا گیا ہے کہ مدراس میں معمول سے زیادہ بارش ہوئی۔ پبلک میگزین امرتسر ۱۹۰۷ ء صفحہ ۱۱ میں لکھا ہے کہ امرتسر میں سردی کمال جو بن پر ہے اور سلسلہ برسنے کا شروع ہے۔ اخبار سما چار لا ہور ۲۶ فروری ۱۹۰۷ء میں لکھا ہے کہ بارش سے لوگ تنگ آگئے ہیں ۔ روزانه پیسه اخبار مورخه ۱۵ رفروری ۱۹۰۷ ء صفحه ۵۔ آرہ۔ چار روز سے برابر رحمت کی جھڑی لگی ہوئی ہے، ہو بہو موسم برسات کی کیفیت نظر آتی ہے، مخلوق گھبرا رہی ہے اور دھوپ کو ترس رہی ہے۔ روزانہ پیسہ اخبار ۸ فروری ۱۹۰۷ ء صفحہ ۸ میں لکھا ہے۔ کئی دن سے بارش ہو رہی تھی ۔ کل دوبارہ بڑے زور سے پانی پڑا سردی بڑھ گئی اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے سڑکوں کی حالت تباہ ہے۔ یہ اخبار ہیں جو ہم نے اس پیشگوئی کے پورے ہونے کے لئے جو اس ملک میں بارش وغیرہ ہونے پر موقوف تھی ان کے گواہان لکھے ہیں اور اگر ہم چاہتے تو اور پچاس ساٹھ اخبار اس پیشگوئی کی تصدیق کے لئے پیش کر سکتے تھے مگر میں جانتا ہوں کہ اس قدرا اخباروں کی شہادت کافی ہے اور ملک خود جانتا ہے کہ اس موسم بہار میں یہ غیر معمولی بارشیں ہیں جن کا علم بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کو بھی نہیں تھا بلکہ بارشوں اور طوفان وغیرہ کی پیشگوئی کرنے والے جو گورنمنٹ کی طرف سے مقرر ہیں جو اس کام کے لئے بڑی بڑی بھاری تنخواہیں پاتے ہیں وہ پیشگوئی کر چکے تھے کہ معمولی بارش سے زیادہ نہیں ہوگی چنانچہ پر چہ اخبار سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور مورخہ ۱۶ دسمبر ۱۹۰۶ء میں اس رائے کو دیکھو جو انہوں نے آئندہ موسم کے لئے ظاہر کی ہے۔