حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 475

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۷۵ تتمه حقيقة الوحى نظر آتا ہے سورج اور دھوپ دیکھنے کو لوگ ترس رہے ہیں کوئی دن خالی نہیں جاتا کہ برف نہ گرتی ہو یا اولے نہ پڑتے ہوں اور اگر یہ نہ ہو تو بارش تو ضرور ہوتی ہے اور بعض وقت دھواں دھار بادلوں کی وجہ سے دن کے وقت اندھیرا ہو جاتا ہے اور بغیر روشنی کے کام نہیں ہوتا اور سردی کا وہ عالم ہے کہ رات کے وقت اگر پانی کسی جگہ پڑا رہ گیا تو فجر کو یخ ہو جاتا ہے آج کل پانی بغیر گرم کرنے کے پیا نہیں جاتا اور اس وقت سواء برف کے چاروں طرف شملہ کے اور کچھ نظر نہیں آتا ۔ تمام اشجار و مکانات برف سے برقع پوش ہیں اور سردی بہت سخت ہے اور پھر اسی اخبار میں ہے کہ اس ملک میں بارش عام ہے جن مقامات میں اکثر بارش کی شکایت رہتی تھی وہاں بھی ہو گئی ۔“ اور اخبار جاسوس آگرہ پر چه ۱۵ ارفروری ۱۹۰۷ء کے صفحہ ۴ میں لکھتا ہے کہ رفروری ۱۹۰۷ء کو شام کے وقت کانپور میں سخت بارش ہوئی ۔ طوفان برق آیا اور ایسی ژالہ باری ہوئی کہ ریل بند ہو گئی ۔“ اور اخبار اہل حدیث امرتسر ۲۲ فروری ۱۹۰۷ ء مطابق ۱۸ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ کے صفحہ گیارہ میں لکھا ہے کہ اس ہفتہ میں اس نواح میں بلکہ کل پنجاب میں بارش کا سلسلہ لگا تار رہا۔ ۱۹/ کی شب کو سخت ژالہ باری ہوئی ۔ کرشن جی قادیانی کو الہام ہوا ہے آسمان ٹوٹ پڑا ۔ فرمایا کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے ۔ ( یہ الہام الہی پر ہنسی ٹھٹھا ہے وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ ) بہر حال ہمارے اس مخالف نے گواہی دی کہ اس ہفتہ میں کل پنجاب میں سلسلہ بارش برابر لگا رہا ہے اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ ۲۲ فروری عین بہار کا موسم ہے اور اُس نے یہ بھی گواہی دی کہ الہام مذکورہ بالا پورا ہوا۔ اور رسالہ حکمت لاہور ۱۵ ارفروری ۱۹۰۷ء میں لکھا ہے کہ دار جیلنگ میں ہر روز بارش ہو رہی ہے اور طوفان رعد آیا۔ اخبار نیر اعظم مراد آباد کے پرچہ ۱۹ / فروری ۱۹۰۷ء میں لکھا ہے کہ ایک ہفتہ تک بارش ہوتی رہی اولے بھی گرے۔ الشعراء : ۲۲۸