حقیقةُ الوحی — Page 453
روحانی خزائن جلد ۲۲ لدله تتمه حقيقة الوحى کسی مخالف کی نسبت اس کی بد گوئی سے پہلے خود بد زبانی میں سبقت کی ہو مولوی محمد حسین بٹالوی نے جب جرات کے ساتھ زبان کھول کر میرا نام دجال رکھا اور میرے پر فتویٰ کفر لکھوا کر صد ہا پنجاب و ہندوستان کے مولویوں سے مجھے گالیاں دلوائیں اور مجھے یہودو نصاری سے بدتر قرار دیا اور میرا نام کذاب مفسد ، دجال ، مفتری، مکار ، ٹھگ ، فاسق ، فاجر، خائن رکھا تب خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ صحت نیت کے ساتھ ان تحریروں کی مدافعت کروں ۔ میں نفسانی جوش سے کسی کا دشمن نہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک سے بھلائی کروں مگر جب کوئی حد سے بڑھ جائے تو میں کیا کروں ۔ میرا انصاف خدا کے پاس ہے ان سب مولوی لوگوں نے مجھے دکھ دیا اور حد سے زیادہ دکھ دیا اور ہر ایک بات میں ہنسی اور ٹھٹھا کا نشانہ بنایا۔ پس میں بجز اس کے کیا کہوں کہ يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ یادر ہے کہ سعد اللہ میرے مقابلہ پر دو دفعہ مباہلہ کا نشانہ ہو چکا ہے پہلے تو اُنہیں عربی شعروں میں جو انجام آتھم میں میں لکھ چکا ہوں مباہلہ کے طور پر میں نے دعا کی ہے کہ خدا ا جھوٹے کو ہلاک کرے چنانچہ ان مباہلوں کے شعروں میں سے ایک شعر یہ ہے: يَارَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا بِكَرَامَةٍ يَا مَنْ يَرَى قَلْبِي وَلُبَّ لِحَائِي یعنی اے خدا تو مجھ میں اور سعد اللہ میں فیصلہ کر تو میرے دل کی حالت کو جانتا ہے اور پھر سعد اللہ کی نسبت دوسرا شعر یہ ہے: اذَيْتَنِي خُبْتًا فَلَسْتُ بِصَادِق إِنْ لَمْ تَمُتْ بِالخِزْى يَا ابْن بَغَاءِ یعنی تو نے اے سعد اللہ خباثت کی راہ سے مجھے دکھ دیا ہے پس میں جھوٹا ہونگا اگر میرے سامنے ذلت کے ساتھ تیری موت نہ ہو پھر دوسری دفعہ جو میں نے سعد اللہ کو مباہلہ کا سعد اللہ کو مباہلہ کا نشانہ بنایا اُس کا ذکر میری کتاب انجام آتھم کے صفحہ ۶۷ میں ہے اور اس دعوت مباہلہ میں کئی مولوی اور شامل ہیں جن کے ناموں کی فہرست انجام آتھم کے صفحہ ۶۹ سے صفحہ ۷۲ تک کتاب مذکورہ میں درج ہے اور دعوت مباہلہ میں يس : ۳۱ ۲۲