حقیقةُ الوحی — Page 438
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۴۳۸ تتمه حقيقة الوحى بیہودہ گوئی اور حماقت ہے۔ اس مقدمہ کی یہ صورت تو نہیں ہے کہ پیشگوئی کے بعد لڑ کا پیدا ہو گیا بلکہ ۱۵ ۳۰ ۲۹ وہ لڑکا جواب موجود ہے پیشگوئی کے وقت میں پندرہ یا چودہ برس کا تھا اور اب تیس یا انتیس برس کا ہوگا ۔ پس جبکہ پیشگوئی کے زمانہ میں یہ لڑکا موجود تھا تو ایک عقلمند صاف سمجھ سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کا یہ مطلب ہے کہ یہ لڑکا کا لعدم ہے اور اس کے بعد نسل کا خاتمہ ہے اور یہی خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے تفہیم ہوئی تھی۔ میلہم سے زیادہ کوئی الہام کے معنی نہیں سمجھ سکتا اور نہ کسی کا حق ہے جو اس کے مخالف کہے۔ پس جبکہ خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی کے یہی معنی کھولے کہ یہ لڑکا کا لعدم ہے اور اس کے بعد سعد اللہ کی نسل نہیں چلے گی اور اسی پر سعد اللہ کی نسل کا خاتمہ ہو جائے گا تو پھر کس قدر ہٹ دھرمی ہے کہ یہ کہنا کہ سعد اللہ اپنی موت کے بعد لڑ کا چھوڑ گیا۔ اے نادان ! یہ لڑکا تو پیشگوئی کے وقت موجود تھا اور محاورات عرب کو بالاستقصاء دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ ابتر کے لفظ میں یہ شرط نہیں ہے کہ کوئی شخص صاحب اولا داس حالت میں مرے کہ جب اس کی زندگی میں اس کی اولا د فوت ہو جائے بلکہ نسل کی جڑھ کٹ جانا شرط ہے جیسا کہ بستر کے معنی لغت عرب میں یہ لکھے ہیں کہ البتر : استیصال الشَّيءِ قطعا یعنی بتر کہتے ہیں کسی چیز کو جڑھ سے کاٹ دینے کو۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ پیشگوئی آئندہ نسل کے لئے تھی یعنی یہ کہ موجودہ لڑکے سے آئندہ نسل نہیں چلے گی جیسا کہ ہم آئندہ تصریح سے بیان کریں گے۔ پس جس شخص کی فطرت میں ایک ذرہ عقل اور حیا ہے وہ سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کسی کی نسبت یہ پیشگوئی کرنا کہ فلاں شخص منقطع النسل ہو جائے گا۔ اس پیشگوئی کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اس کی زندگی میں ہی وہ تمام نسل مر جائے کیونکہ اگر یہی شرط ہو تو پھر ایسی صورت میں ایسی قطع نسل کا کیا نام رکھنا چاہیے کہ ایک انسان ایک یا دو ولد چھوڑ کر مر جائے اور بعد اس کے کسی وقت وہ لڑکے بھی مر جائیں اور کچھ نسل باقی نہ رہے۔ کیا عرب کے محاورات میں بجز ابتر کے لفظ کے ایسی صورت میں کوئی اور لفظ بھی موجود ہے اور کیا یہ کہنا جائز ہوگا کہ ایسا شخص منقطع النسل نہیں اور لفظ استیصال الشيء قطعًا اُس پر لازم نہیں آتا۔ پس ظاہر ہے کہ ایسا خیال حماقت اور دیوانگی ہے۔ اور زبان عرب میں اس قسم کے قطع نسل کے لئے