حقیقةُ الوحی — Page 384
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۸۴ حقيقة الوحى ۳۷۰ راقم عاجز نے اس اقرار نامہ کو بغرض اشاعت دارالامان میں بخدمت بابو محمد افضل صاحب مرحوم ایڈیٹر البدر کے روانہ کیا انہوں نے یہ لکھ کر کہ ہم ایسے مضامین کو اپنے اخبار میں درج نہیں کرتے واپس کر دیا گرد نواح کے علاقہ میں بھی اس پیشگوئی کی شہرت ہو گئی اور لوگ کہنے لگے کہ دیکھا چاہیے اب کون جیتا ہے مرزا قادیانی یا مرزا دوالمیالی بلکہ مخالف لوگ نماز کے بعد اپنے فقیر مرزا کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگنے لگے ۔ ایک دن ایک ہندو سارجنٹ فقیر صاحب کو سراج الاخبار پڑھ کر سنارہا تھا کہ حکیم فضل دین سخت بیمار ہے چار پائی اُٹھا کر گورداسپور کی عدالت میں لائے ہیں ، اس خبر کے سننے سے ملہم صاحب خوش ہو کر کہنے لگے کہ اب مرزا قادیانی کی تباہی کا وقت آگیا ہے اور اس کے آثار ظاہر ہو پڑے ہیں مگر بیچارے کو کیا معلوم کہ ادھر میری تباہی کی تیاریاں ہو رہی ہیں تھوڑا ہی عرصہ گذرا کہ علاقہ میں طاعونی لشکر نے ڈیرے لگا دیئے۔ ملہم صاحب کو اپنے الہامات پر اس قدر فخر تھا کہ میرے طفیل میرا تمام محلہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ جب دوسرا رمضان آیا تو اُس کے محلہ میں طاعون شروع ہو گئی۔ اس وقت یہ چار آدمی گھر میں موجود تھے ایک ملہم دوسری مہم کی بیوی تیسری لڑکی چوتھی لڑکے کی زوجہ پہلے ملہم کی بیوی کا طاعون سے انتقال ہو گیا پھر خود فقیر صاحب ۵ یا ۶ ر رمضان ۱۳۲۲ھ کی شام کو سخت طاعون میں مبتلا ہو گئے ساتھ ہی زبان بند ہوگئی شدت ورم اور حبس دم کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا گو یا آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے آخر پورے ایک سال کے بعد جس روز پیشگوئی کی گئی تھی یعنی ۷ / رمضان ۱۳۲۲ھ کو ہلاک ہو گیا دولڑکیاں جو پیچھے رہ گئی تھیں وہ بھی تھوڑے دنوں کے بعد سخت بیمار ہوگئیں ۔ راقم کو علاج کے واسطے بلا کر لے گئے میں اُن کی حالت دیکھ کر ڈر گیا ۔ علاج کرانے والوں کو کہا کہ اس گھر میں خدا کا غضب نازل ہو رہا ہے تم اپنی ہمشیرہ کو گھر لے جاؤ وہ گھر میں لے گئے اور مریضہ کچھ دن بعد اچھی ہوگئی جو ملہم کی لڑکی تھی وہ اُسی گھر میں دوسرے روز باپ سے جاملی اور بجائے ۲۷ / رمضان کے بے رمضان کو حضرت مرزا صاحب قادیانی کے سلسلہ کے عوض مرز ادوالمیالی کے گھر کا سلسلہ تباہ ہو گیا۔ دوسرا نشان یہ ہے کہ صو بیدار غلام محمد خان کے لڑکے عطا محمد کو ایک دیوانے کتے نے