حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 363 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 363

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۶۳ حقيقة الوحى ہمارے ہو في وجهنا نور المهيمن لائح ان كان فيكم ناظر متوسم ۳۵۰ منہ پر خدا کا نور روشن ہے اگر تم میں کوئی دیکھنے والا ما قلت يا عبد الحكيم بجنبنا الا كخذف عند سيف يـصـــرم اے عبدالحکیم تو نے ہمارے مقابل پر جو باتیں کی ہیں تو وہ ایک روڑہ کی طرح ہے جو چلا یا جاتا ہے بمقابل اس تلوار کے جو کاٹتی ہے وَاللَّهِ لَا يُخزى عزيز جنابه والله لا تُعطى العلاء و ترجم بخدا کہ خدا تعالیٰ کا عزیز رسوا نہیں ہوگا اور بخدا کہ تو غالب نہیں ہوگا اور رڈ کیا جائے گا هذا من الرحمن نَبا محكم فاسمع ويأتي وقته المتحتم یہ خدا کی طرف سے خبر پختہ ہے محکم ہے پس سن رکھ اور اس کا قرار دادہ وقت آرہا ہے والله يُنقَضُ كل خيط مكائد لين سحيل او شدید مبرم اور بخدا ہر ایک مکر کا دھاگہ توڑ دیا جائے گا خواہ وہ نرم مکر ہے اور خواہ سخت مکر ہے كفرو ما التكفير منك ببدعة رسم تقادم عهده المتقدم مجھے کافر کہہ اور کافر کہنا تیرا کوئی نئی بات نہیں ایک پرانی رسم قدیم سے چلی آتی ہے قد كُفّرت من قبل صحب نبينا قالوا لئام كفرةٌ وهُم هُم اس سے پہلے ہمارے نبی صلعم کے صحابہ کو لوگوں نے کافر ٹھہرایا اور کہا کہ یہ ٹیم اور کافر ہیں اور ان کی شان جو ہے سو ہے تب من كلام قلت واحفد تائبا والعفو خلقى أيها المتوهم جو کچھ تو نے کہا ہے اُس سے توبہ کر اور میری طرف دوڑ اور بخشنا میرا خُلق ہے اے وہموں میں گرفتار ان كنت تتمنى الوغا فَتُحارِبُ بارز فـــانـــي حـاضـر مـتـخـيـم اگر تو لڑنے کو چاہتا ہے پس ہم لڑیں گے باہر میدان میں آ کہ میں حاضر ہوں خیمہ لگائے ہوئے نطقی کسیف قاطع يُردى العدا قولى كعالية القنـا او لهذم میرا نطق تلوار کاٹنے والی کے مانند ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرتی ہے بات میری نیزہ کی نوک کی طرح ہے یا لہذم کی طرح ہے کم من قلوب قد شققت غلافها كم من صدور قد كلمت واكلم بہت دل ہیں جن کے غلاف میں نے پھاڑ دئے بہت سینے ہیں جو میں نے مجروح کئے اور کرتا ہوں