حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 342

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۲ حقيقة الوحى ۳۲۹ ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی اور دل میں سخت غم پیدا ہوا اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں آپ تو بہ واستغفار بہت کریں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے اور اگر چہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی اُن کا اثر نہیں ہوگا کیونکہ میں صد ہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔ غرض اُس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دعا کے عجیب نظارۂ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اُتر گیا اور گلٹیوں کا نام و نشان نہ رہا اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا ، چلنا ، کھیلنا، دوڑنا شروع کر دیا گویا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔ یہی ہے احیائے موتی۔ میں حلفاً کہتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ کے احیائے موتی میں اس سے ایک ذرہ کچھ زیادہ نہ تھا۔ اب لوگ جو چاہیں شخص اُن کے معجزات پر حاشیے چڑھائیں مگر حقیقت یہی تھی ۔ جو شخص حقیقی طور پر مر جاتا ہے اور اس دنیا سے گذر جاتا ہے اور ملک الموت اُس کی روح کو قبض کر لیتا ہے وہ ہرگز واپس نہیں آتا۔ دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لَ ۱۴۴- نشان ۔ مولوی اسمعیل باشنده خاص علی گڑھ وہ شخص تھا جو سب سے پہلا عداوت پر کمر بستہ ہوا اور جیسا کہ میں نے اپنے رسالہ فتح اسلام میں لکھا ہے اُس نے لوگوں الزمر : ۴۳