حقیقةُ الوحی — Page 332
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۳۲ حقيقة الوحى ۳۱۹ آسماں یا عرش پر نہیں بلکہ سرب بیا پک ہے۔ میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وید ہی سب سے کامل اور مقدس گیان کے پتک ہیں۔ آریہ ورت سے ہی تمام دنیا نے فضیلت سیکھی۔ آر یہ لوگ ہی سب کے اُستاد اول ہیں ۔ آریہ ورت سے باہر جو بقول مسلمانوں کے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر ۶۰۵ ہزار سال سے آئے ہیں اور توریت ، زبور، انجیل ، قرآن وغیرہ کتب لائے ہیں میں دلی یقین سے اُن پستکوں کو مطالعہ کرنے سے اور سمجھنے سے ۔۔۔ اُن کی تمام مذہبی ہدایتوں کو بناوٹی اور جعلی ، اصلی الہام کے بد نام کر نیوالی تحریریں خیال کرتا ہوں ۔۔۔ اُن کی سچائی کی دلیل سوائے طمع یا نادانی یا تلوار کے اُن کے پاس کوئی نہیں ۔۔۔ اور جس طرح میں اور راستی کے برخلاف باتوں کو غلط سمجھتا ہوں ایسا ہی قرآن اور اس کے اصولوں اور تعلیموں کو جو دید کے مخالف ہیں اُن کو غلط اور جھوٹا جانتا ہوں ۔ (لعنة اللہ علی الکاذبین ) لیکن میرا دوسرا فریق میرزا غلام احمد ہے وہ قرآن کو خدا کا کلام جانتا اور اس کی سب تعلیموں کو درست اور صحیح سمجھتا ہے اور جس طرح میں قرآن وغیرہ کو پڑھ کر غلط سمجھتا ہوں ویسے ہی وہ اُمی محض سنسکرت اور ناگری سے محروم مطلق بغیر پڑھنے یا دیکھنے ☆ ویدوں کے ویدوں کو غلط سمجھتا ہے کی اے پر میشر ہم دونوں فریقوں میں سچا فیصلہ کر کیونکہ کا ذب صادق کی طرح کبھی تیرے حضور میں عزت نہیں پا سکتا۔ راقم آپکا از لی بندہ لیکھر ام شرما سبھا سد آریہ سماج پشاور حال اڈیٹر آر یہ گزٹ فیروز پور پنچاب حاشیہ : اگر میں نے وید نہیں پڑھے بھلا یہ تو غنیمت ہے کہ لیکھر ام نے چاروں وید کنٹھ کر لئے تھے اس جگہ بھی بجز لعنة الله علی الکاذبین کیا کہہ سکتے ہیں ۔ بحث اصولوں پر ہوتی ہے جبکہ آریہ سماج والوں نے اپنے ہاتھ سے وید کے اصول شائع کر دئے تو ان پر بحث کرنا ہر ایک عقلمند کا حق ہے اور یہ سراسر غلط ہے کہ میں وید نہیں پڑھا۔ میں نے وید کے وہ ترجمے جو ملک میں شائع ہوئے اوّل سے آخر تک دیکھے ہیں۔ پنڈت دیانند کا وید بھاش بھی دیکھا ہے اور عرصہ قریباً پچیس سال سے برابر آریوں سے میرے مباحثات ہوتے رہے ہیں پھر یہ کہنا کہ وید کی مجھے کچھ بھی خبر نہیں کس قدر جھوٹ ہے اور اگر آر یہ صاحبوں کے پنڈت اب بھی لیکھرام کو دید کا فاضل تسلیم کر چکے ہیں تو میں وہ سرٹیفیکیٹ دیکھنے کا مشتاق ہوں بلکہ لیکھرام کا رتبہ ذرا بھی اس سے بڑھ کر نہیں جو خدا نے اس کے لئے فرمایا عجل جسد له خوار ـ منه