حقیقةُ الوحی — Page 329
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۲۹ حقيقة الوحى نہیں ہوں گے اور تمام جگت کا سرجن ہار ایک ہی کرتا رہے دوسرا کوئی نہیں میں پر میشر کی ۳۱۶ طرح تمام دنیا کا مالک یا صانع نہیں ہوں اور نہ سرب بیا پک ہوں اور نہ انتر یامی بلکہ اس مہان شکتی مان کا ایک ادنی سیوک ہوں مگر اُس کے گیان اور شکتی میں ہمیشہ سے ہوں معدوم کبھی نہیں ہوا۔ اور نہ کوئی عدم خانہ کہیں ہے بلکہ کسی چیز کو عدم نہیں ۔ ایسا ہی وید کی بقیہ حاشیہ : اور ان کی قوتوں اور ذرات عالم اور ان کی قوتوں کا پیدا کر ، عالم اور ان کی قوتوں کا پیدا کرنے والا نہیں تو پھر وہ اُن کا خدا بھی نہیں ۳۱۶ ہو سکتا اور یہ کہنا کہ اگر چہ ہم ارواح کو اُن کے تجرد کی حالت میں خدا کے بندے اور مخلوق نہیں کہہ سکتے کیونکہ اُس نے اُن کو نہیں بنایا لیکن جب پر میشر ارواح کو اجسام میں ڈالتا ہے تو اس قدر اپنی کارروائی سے اُن کا پرمیشر بن جاتا ہے یہ خیال بھی غلط ہے کیونکہ جس پر میشر نے ارواح اور پر مانو کو مع ان کی تمام قوتوں کے پیدا نہیں کیا کوئی دلیل اس بات پر قائم نہیں ہو سکتی کہ وہ اُن کے جوڑنے پر قادر ہے اور محض بعض کا بعض سے جوڑنا اس کو پرمیشر بننے کا حق نہیں بخش دے گا بلکہ اس صورت میں تو وہ اُس نان بائی کی طرح ہے جس نے آٹا بازار سے لیا اور لکڑی کسی لکڑی فروش سے اور آگ ہمسایہ سے اور پھر روٹی پکائی ۔ اور اس صورت میں پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی ثبوت نہیں کیونکہ اگر ارواح مع اپنی تمام قوتوں کے قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ ارواح اور پر مانوؤں کا اتصال اور انفصال بھی قدیم سے خود بخود نہیں جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے اس لئے آریہ سماج والے اپنے پر میشر کے وجود پر کوئی دلیل نہیں پیش کر سکتے اور نہ اُن کے پاس کوئی دلیل ہے۔ یہ ہے خلاصہ وید کے گیان کا جس پر فخر کیا جاتا ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی پر دو قسم کے دلائل قائم ہو سکتے ہیں اول اس حالت میں دلیل قائم ہوتی ہے کہ جب اس کی ذات کو سر چشمہ تمام فیوض کا مان لیا جائے اور اُسی کو ہر ایک ہستی کا پیدا کنندہ تسلیم کر لیا جائے تو اس صورت میں خواہ ذرات عالم پر نظر کریں یا ارواح پر یا اجسام پر ضروری طور پر ماننا پڑے گا کہ ان تمام مصنوعات کا ایک صانع ہے۔ دوسرا طریق خدا تعالیٰ کی شناخت کا اس کے تازہ بتازہ نشان ہیں جو انبیاء اور اولیاء کی معرفت ۳۱۷ ظاہر ہوتے ہیں سو آریہ سماج والے اُن سے بھی منکر ہیں اس لئے اُن کے پاس اپنے پرمیشر کے وجود پر کوئی بھی دلیل نہیں۔ عجیب بات ہے کہ آریہ لوگ یوں تو بات بات میں اپنے پر میشر کو پتا پتا کر کے پکارتے ہیں جیسا کہ