حقیقةُ الوحی — Page 328
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۲۸ حقيقة الوحى ۳۱۵ منظور کرتا ہوں اور مباہلہ کو یہاں پر طبع کرا کر مشہور ۔ مضمون مباہلہ میں نیاز التیام لیکھرام ولد پنڈت تارا سنگھ صاحب شرما مصنف تکذیب براہین احمدیہ و رساله هذا اقرار صحیح بدرستی ہوش و حواس کر کے کہتا ہوں کہ میں نے اول سے آخر تک رسالہ سرمہ چشم آریہ کو پڑھ لیا۔ اور ایک بار نہیں بلکہ کئی بار اس کے دلائل کو بخوبی سمجھ لیا بلکہ اُن کے بطلان کو بروئے ست دھرم رسالہ ھذا میں شائع کیا میرے دل میں مرزا جی کی دلیلوں نے کچھ بھی اثر نہیں کیا اور نہ وہ راستی کے متعلق ہیں۔ میں اپنے جگت پتا پر میشر کو ساتھی جان کر اقرار کرتا ہوں کہ جیسا کہ ہر چہاروید مقدس میں ارشاد ہدایت بنیاد ہے اس پر میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ میری روح اور تمام ارواح کو کبھی نیستی یعنی قطعی ناش نہیں ہے اور نہ کبھی ہوا اور نہ ہوگا۔ یہ میری روح کو کسی نے نیست سے ہست نہیں کیا (یعنی میری روح کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں بلکہ خود بخود قدیم سے ہے) بلکہ ہمیشہ سے پر ماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا۔ ایسا ہی میرا جسمی مادہ یعنی پر کرتی یا پر مانو بھی قدیمی یا انادی پر ماتما کے قبضہ قدرت میں موجود ہیں کبھی مفقود حاشیہ: یہ کیسا فضول فقرہ ہے کہ ہمیشہ سے پر ماتما کی انادی قدرت میں رہا اور رہے گا ظاہر ہے کہ جبکہ ارواح بقول آریہ سماج کے اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ قدیم سے خود بخود ہیں تو پھر ان کو پرمیشر کی قدرت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ان قوتوں کو نہ پر میشر بڑھا سکتا ہے نہ گھٹا سکتا ہے اور نہ اُن میں کسی طرح کا تصرف کر سکتا ہے ۔ وہ تمام ارواح تو بقول آریوں کے اپنے اپنے وجود کے آپ ہی پر میشر ہیں اور ایک ذرہ پر میشر کا ان پر احسان نہیں ۔ پس یادر ہے کہ یہ مقولہ لیکھر ام اور اس کے دوسرے ہم مذہبوں کا کہ ارواح پر ماتما کی انادی قدرت میں رہتے ہیں اور رہیں گے یہ صرف اپنے غلط مذہب کی پردہ پوشی کے لئے بولا جاتا ہے کیونکہ انسان کا کانشنس اس کو ہر وقت ایسے بے ہودہ عقائد پر ملزم کرتا ہے اگر خدا روحوں ☆