حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 135

روحانی خزائن جلد ۲۲ الله حقيقة الوحى اب اس آیت سے کہ جو پنج وقت نماز میں پڑھی جاتی ہے ظاہر ہے کہ خدا کا روحانی انعام جو ۱۳۲ معرفت اور محبت الہی ہے صرف رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ سے ہی ملتا ہے نہ کسی اور ذریعہ سے ہمیں معلوم نہیں کہ میاں عبد الحکیم خان نماز بھی پڑھتے ہیں یا نہیں اگر پڑھتے ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ ان آیات کے معنوں سے بے خبر رہتے مگر جب اُن کے نزدیک صرف توحید ہی کافی ہے تو پھر نماز کی کیا ضرورت ہے۔ نماز تو رسول کا ایک طریق عبادت بتلایا ہوا ہے جس کو رسول کی متابعت سے کچھ غرض نہیں اُس کو نماز سے کیا غرض ہے۔ اس کے نزدیک تو موحد برہمو بھی نجات یافتہ ہیں کیا وہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور جب کہ اُس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی بوجہ اپنی خشک توحید کے نجات پاسکتا ۔ کے نجات پاسکتا ہے اور ایسا آدمی بھی نجات پاسکتا ہے جو اور یہود یا نصاری یا آریوں میں سے موحد ہے گو اسلام کا مکذب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے تو پھر اس کی یہی رائے ہوگی کہ نماز لا حاصل اور روزہ بے سود ہے مگر ایک مومن کے لئے تو صرف یہی آیت کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ روحانی دولت کے مالک صرف انبیاء اور رسل ہیں اور ہر ایک کو ان کی پیروی سے حصہ ملتا ہے۔ پھر سورہ بقرہ کے شروع میں یہ آیات ہیں۔ ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - الَّذِينَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ - وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ - أُولَبِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ! ترجمہ : یہ کتاب جو شکوک و شبہات سے پاک ہے متقیوں کے لئے ہدایت نامہ ہے اور متقی وہ لوگ ہیں جو خدا پر ( جس کی ذات مخفی در مخفی ہے ) ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم کرتے ہیں اور اپنے مالوں میں سے خدا کی راہ میں کچھ د۔ یتے اور اُس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تیرے پر نازل ہوئی عبد الحکیم خان کے نزدیک جہاں تک اُس کی عبارت سے سمجھا جاتا ہے ارتداد کے لئے یہ بھی ایک عذر ہے کہ جس شخص کو اپنی رائے میں اسلام کی سچائی کے کافی دلائل نہیں ملے وہ اسلام سے مرتد ہو کر بھی نجات پاسکتا ہے کیونکہ اسلام کی حقانیت پر اُس کو تسلی حاصل نہیں ہوئی مگر اس کو بیان کرنا چاہیے تھا کہ کس حد تک اتمام حجت اس کے نزدیک ہے۔ منہ البقرة : ٣ تا ٦