حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 134

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۱۳۴ حقيقة الوحى ۱۳۱ ہو گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اقرار کر لیا۔ تب خدا نے فرمایا کہ اب اپنے اقرار کے گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ اس بات کا گواہ ہوں ۔ اب ظاہر ہے کہ انبیاء تو اپنے اپنے وقت پر فوت ہو گئے تھے یہ حکم ہر نبی کی اُمت کے لئے ہے کہ جب وہ رسول ظاہر ہو تو اس پر ایمان لاؤ ورنہ مواخذہ ہوگا ۔ اب بتلاویں میاں عبد الحکیم خان نیم ملا خطره ایمان ! که اگر صرف توحید خشک سے نجات ہو سکتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ایسے لوگوں سے کیوں مؤاخذہ کرے گا جو گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتے مگر تو حید باری کے قائل ہیں ۔ علاوہ اِس کے توریت استثناء باب ۱۸ میں ایک یہ آیت موجود ہے کہ جو شخص اُس آخر الزمان نبی کو نہیں مانے گا میں اُس سے مطالبہ کروں گا ۔ پس اگر صرف تو حید ہی کافی ہے تو یہ مطالبہ کیوں ہوگا؟ کیا خدا اپنی بات کو بھول جائے گا ؟ اور میں نے بقدر کفایت قرآن شریف میں سے یہ آیات لکھی ہیں ورنہ قرآن شریف اس قسم کی آیات سے بھرا ہوا ہے چنانچہ قرآن شریف انہیں آیات سے شروع ہوتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے: اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یعنی اے ہمارے خدا ہمیں رسولوں اور نبیوں کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام اور اکرام ہوا ہے۔ ــه یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان سچے دین پر ہو تو اعمال صالحہ بجالانے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام پاتا ہے۔ اسی طرح سنت الہی واقع ہے کہ بچے دین والا صرف اس حد تک ٹھیرایا نہیں جاتا جس حد تک وہ اپنی کوشش سے چلتا ہے اور اپنی سعی سے قدم رکھتا ہے بلکہ جب اس کی کوشش حد تک پہنچ جاتی ہے اور انسانی طاقتوں کا کام ختم ہو جاتا ہے تب عنایت الہی اُس کے وجود میں اپنا کام کرتی ہے اور ہدایت الہی اس مرتبہ تک اس کو علم اور عمل اور معرفت میں ترقی بخشتی ہے جس مرتبہ تک وہ اپنی کوشش سے نہیں پہنچ سکتا تھا جیسا کہ ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا " یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ اختیار کرتے ہیں اور جو کچھ اُن سے اور اُن کی قوتوں سے ہو سکتا ہے بجالاتے ہیں۔ تب عنایت حضرت احدیت اُن کا ہاتھ پکڑتی ہے اور جو کام اُن سے نہیں ہو سکتا تھا وہ آپ کر دکھلاتی ہے۔ منہ ا الفاتحة : ٧،٦ العنكبوت : ٧٠