فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 748

فتح اسلام — Page 528

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۸ ازالہ اوہام حصہ دوم سچے جوشوں کے ساتھ انہوں نے وفاداری دکھلائی اور میرے لئے ہر یک قسم کی تکلیفیں اُٹھائیں اور قوم کے منہ سے ہر یک قسم کی باتیں سنیں ۔ میر صاحب نہایت عمدہ حالات کے آدمی اور اس عاجز سے روحانی تعلق رکھنے والے ہیں اور ان کے مرتبہ اخلاص کے ثابت کرنے ۷۹﴾ کے لئے یہ کافی ہے کہ ایک مرتبہ اس عاجز کو اُن کے حق میں الہام ہوا تھا اصله ثابت وفرعه في السماء ۔ وہ اس مسافر خانہ میں محض متوکلا نہ زندگی بسر کرتے ہیں۔ اپنے اوائل ایام میں وہ ہیں برس تک انگریزی دفتر میں سرکاری ملازم رہے مگر باعث غربت و درویشی کے ان کے چہرہ پر نظر ڈالنے سے ہرگز خیال نہیں آتا کہ وہ انگریزی خواں بھی ہیں لیکن دراصل وہ بڑے لائق اور مستقیم الاحوال اور دقیق الفہم ہیں مگر با ایں ہمہ سادہ بہت ہیں اسی وجہ سے بعض موسوسین کے وساوس اُن کے دل کو غم میں ڈال دیتے ہیں لیکن ان کی قوت ایمانی جلد ان کو دفع کر دیتی ہے۔ (۱۰) حبّى فى الله منشی احمد جان صاحب مرحوم ۔ اس وقت ایک نہایت غم سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ یہ پُر درد قصہ مجھے لکھنا پڑا کہ اب یہ ہمارا پیارا دوست اس عالم میں موجود نہیں ہے اور خدا وند کریم و رحیم نے بہشت بریں کی طرف بلا لیا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون و انا بفراقه لمحزونون ۔حاجی صاحب مغفور و مرحوم ایک جماعت کثیر کے پیشوا تھے اور اُن کے مُریدوں میں آثار رشد و سعادت و اتباع سنت نمایاں ہیں ۔ اگرچہ حضرت ۷۹۲ موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پاچکے لیکن یہ امر ان کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا۔ چنانچہ انہوں نے اس میں سیرت صالحین پر اپنا تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اور لکھا کہ میں آپ کی للبی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا