فتح اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 527 of 748

فتح اسلام — Page 527

روحانی خزائن جلد ۳ ۵۲۷ ازالہ اوہام حصہ دوم اسی قدر بلکہ جو کچھ نا جائز خیالات اور اوہام اور بے اصل بدعات شیعہ مذہب میں ملائی گئی ہیں اور جس قدر تہذیب اور صلاحیت اور پاک باطنی کے مخالف ان کا عملدرآمد ہے ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ وہ اپنے ایک خط میں مجھ کو لکھتے ہیں کہ ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں مگر الہامات کے بارہ میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار ۔ پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور اُن پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے ۔ تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لودھیا نہ ملنے گیا تو اُس وقت میری تسکین خوب ہو گئی اور آپ کو ایک با خدا بزرگ پایا اور بقیہ شکوک کا پھر بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بکلی دھویا گیا ۔ ۷۹۰ اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلاثہ کی کسر شان نہ کرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو سکتا ہے تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔ اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں۔ اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گنا ہوں سے آئندہ کے لئے تو بہ کی ہے۔ مجھ کو آپ کے اخلاق اور طرز معاشرت سے کافی اطمینان ہے کہ آپ ایک سچے مجدد اور دنیا کے لئے رحمت ہیں ۔ ( ۹ ) حبي في الله میر عباس علی لود بانوی ۔ یہ میرے وہ اوّل دوست ہیں جن کے دل میں خدائے تعالیٰ نے سب سے پہلے میری محبت ڈالی اور جو سب سے پہلے تکلیف سفر اُٹھا کر ابرا را خیار کی سنت پر بقدم تجرید محض اللہ قادیان میں میرے ملنے کے لئے آئے وہ یہی بزرگ ہیں ۔ میں اِس بات کو کبھی نہیں بھول سکتا کہ بڑے