فتح اسلام — Page 424
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۴ ازالہ اوہام حصہ دوم نازل ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں ۔ لہذا یہ امر ثابت ہے کہ دفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ ۲۰۰ بعد موت اُن کی روحیں علیین تک پہنچائی جاتی ہیں فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكَ مُقْتَدِرٍ ۔ (۳) تیسری آیت جو حضرت عیسی ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے یہ ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ کے یعنی جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی اُن پر نگہبان تھا۔ ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں توفی کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُهُ فرماتا ہے کہ قُلْ يَتَوَفَّكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ ہے اور پھر فرماتا ہے وَلَكِنْ أَعْبُدُ اللَّهَ الَّذِي يَتَوَفَّكُمْ ہے اور پھر فرماتا ہے کہ حَتَّى يَتَوَفَهُنَّ الْمَوْتُ ے اور پھر فرماتا ہے حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ (الجزء نمبر ٨ سورة الاعراف) ، اور پھر فرماتا ہے تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا ۔ ایسا ہی قرآن شریف کے تیس مقام میں برابر توفی کے معنے امانت اور قبض روح ہے لیکن افسوس کہ بعض علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رو سے اس جگہ تَوَفَّيْتَنِی سے مراد رَفَعْتَنِی لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنے نہ صرف لغت کے مخالف ۲۰۱ بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں ۔ پس یہی تو الحاد ہے کہ جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اوّل سے آخر تک التزام کیا ہے ان کو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کر دیا گیا ہے۔ توفی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جابجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے۔ چنانچہ جب میں نے غور سے صحاح ستہ کو دیکھا تو ہر یک جگہ جو توفی کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے منہ سے تو انہیں معنوں میں محدود پایا گیا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا توفی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنے ہوں ۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں القمر : ۵۶ - المائدة : ۱۱۸ الاعراف : ۳۸ ک الانعام : ۶۲ السجدة : ١٢ یونس : ۱۰۵ ۵ النساء : ۱۶