فتح اسلام — Page 423
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۳ ازالہ اوہام حصہ دوم قرآن شریف کی وہ تنیس آیتیں جن سے مسیح ابن مریم کا فوت ہونا ثابت ہوتا ہے (1) پہلی آیت - يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ لا یعنی اے میسی میں تجھے وفات دینے والا ہوں اور پھر عزت کے ساتھ اپنی طرف اٹھانے والا اور کافروں کی تہمتوں سے پاک کرنے والا ہوں اور تیرے متبعین کو تیرے منکروں پر قیامت تک غلبہ دینے والا ہوں ۔ ۵۹۸ (۲) دوسری آیت جو مسیح ابن مریم کی موت پر دلالت کرتی ہے یہ ہے بَلْ رَفَعَهُ الله إِلَيْهِ ہے یعنی مسیح ابن مریم مقتول اور مصلوب ہو کر مردود اور ملعون لوگوں کی موت سے نہیں مرا جیسا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا خیال ہے بلکہ خدائے تعالیٰ نے ﴿۵۹۹ عزت کے ساتھ اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ جاننا چاہیے کہ اس جگہ رفع سے مراد وہ موت ہے جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ دوسری آیت اس پر دلالت کرتی ہے وَرَفَعْنَهُ مَكَانًا علیا سے یہ آیت حضرت ادریس کے حق میں ہے اور کچھ شک نہیں کہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اور لیس کو موت دے کر مکان بلند میں پہنچا دیا کیونکہ اگر وہ بغیر موت کے آسمان پر چڑھ گئے تو پھر بوجہ ضرورت موت جو ایک انسان کے لئے ایک لازمی امر ہے یہ تجویز کرنا پڑے گا کہ یا تو وہ کسی وقت اوپر ہی فوت ہو جائیں اور یا زمین پر آ کر فوت ہوں ۔ مگر یہ دونوں شق ممتنع ہیں کیونکہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جسم خا کی موت کے بعد پھر خاک ہی میں داخل کیا جاتا ہے اور خاک ہی کی طرف عود کرتا ہے اور خاک ہی سے اس کا حشر ہوگا ۔ اور ادریس کا پھر زمین پر آنا اور دوبارہ آسمان سے ال عمران : ۵۶ ۲ النساء : ۱۵۹ مریم: ۵۸