چشمہٴ معرفت — Page 468
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۴۶۸ پیغام صلح مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ یہ ہے حقیقت اسلام کے جہاد کی جس کو نہایت ظلم سے بُرے پیرا یہ میں بیان کیا گیا ہے۔ بے شک خدا حلیم ہے مگر جب کسی قوم کی شرارت حد سے گزر جاتی ہے تو وہ ظالم کو بے سزا نہیں چھوڑتا اور آپ اُن کے لئے تباہی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا تو قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ کے یعنی دین اسلام میں جبر نہیں تو پھر کس نے جبر کا حکم دیا اور جبر کے کون سے سامان تھے اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں اُن کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں ۔ اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سر کٹا ۴۳ دیں۔ اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کر دیں۔ اور خدا کی توحید کے پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اُٹھا کر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلا دیں ۔ اور پھر ہر یک قسم کی صعوبت اٹھا کر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوت اسلام کریں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہو جائیں ۔ اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کر دیں اور یورپ کی حدود تک لا إِلهَ إِلَّا الله کی آواز پہنچاویں۔ تم ایمانا کہو کہ کیا یہ کام اُن لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں جن کا دل کا فر اور زبان مومن ہوتی ہے؟ البقرة : ۲۵۷