چشمہٴ معرفت — Page 467
روحانی خزائن جلد ۲۳ پیغام صلح ہے ۔ میں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ اس بات کو سن کر سب لوگ منتشر ہو گئے اور غار کا خیال چھوڑ دیا۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ طور پر مدینہ میں پہنچے اور ۴۱) مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ کو قبول کر لیا ۔ اس پر مکہ والوں کا غضب بھڑ کا اور افسوس کیا کہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور پھر کیا تھا دن رات انہیں منصوبوں میں لگے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیں ۔ اور کچھ تھوڑا گر وہ مکہ والوں کا کہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا وہ بھی مکہ سے ہجرت کر کے مختلف ممالک کی طرف چلے گئے ۔ بعض نے حبشہ کے بادشاہ کی پناہ لے لی تھی اور بعض مکہ میں ہی رہے کیوں کہ وہ سفر کرنے کے لئے زادِ راہ نہیں رکھتے تھے اور وہ بہت دکھ دیئے گئے ۔ قرآن شریف میں اُن کا ذکر ہے کہ کیوں کر وہ دن رات فریاد کرتے تھے ۔ اور جب کفار قریش کا حد سے زیادہ کا سے زیادہ ظلم بڑھ گیا۔ اور انہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرنا شروع کیا اور بعض عورتوں کو ایسی بیدردی سے مارا کہ اُن کی دونوں ٹانگیں دورسوں سے باندھ کر دو اونٹوں کے ساتھ وہ رسے خوب جکڑ دیئے اور پھر اُن اونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اس طرح پر وہ عورتیں دو ٹکڑے ہو کر مر گئیں ۔ جب بے رحم کا فروں کا ظلم اس حد تک پہنچ گیا ۔ خدا نے جو آخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے ۔ اپنے رسول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ گئی ۔ آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی اُن کا مقابلہ کرو اور یا د رکھو کہ جو ﴿۲۲﴾ لوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے