چشمہٴ معرفت — Page 370
روحانی خزائن جلد ۲۳ ٣٧٠ چشمه معرفت - خاتمہ کتاب میں پڑھا گیا تھا اس رسالہ کے آخر میں لگا دیا ہے۔ ہمیں آریہ صاحبوں پر یہ تہذیب افسوس نہیں کہ انہوں نے اسلام اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کیوں اعتراض کئے کیونکہ منکر کو تہذیب اور شرافت کے ساتھ اعتراض کرنے کا حق حاصل ہے بلکہ ہمارا تمام افسوس اس بات پر ہے کہ انہوں نے شرافت اور اسے کام نہیں لیا بلکہ اپنے مضمون اپنے مضمون میں نہایت درندگی اور ناپاکی سے کام لیا۔ اور اپنے مضمون کو ایک گالیوں کا مجموعہ بنا دیا اور کھلے کھلے طور پر ارادہ کیا کہ اُن معزز مسلمانوں کا دل دکھایا جائے جن کو آپ ہی دھو کہ دے کر بلایا اور آپ ہی شرط لگا دی تھی کہ مہذبانہ طور پر مضمون سنائے جائیں گے۔ اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ اگر بد نیتی نہ ہو تو ایک شخص اپنے اعتراض کو نیک اور پاک پیرا یہ میں بیان کر سکتا ہے ورنہ ایک مفسد آدمی ایک سیدھی بات کو بھی جو نرمی اور شرافت سے ادا کر سکتا تھا گالی اور ہنسی ٹھٹھے کے پیرا یہ میں بیان کر سکتا ہے۔ سو ہم نے ان لوگوں کے جواب میں جس قدر تلخی اور مرارت بعض مقامات میں استعمال کی ہے وہ کسی نفسانی جوش کی وجہ سے نہیں ۳۵۵) بلکہ ہم نے اُن کی شورہ پشتی کا تدارک اسی میں دیکھا۔ کہ جواب ترکی بترکی دیا جائے ہمیں اس طریق سے سخت نفرت ہے کہ کوئی تلخ اور ناگوار لفظ استعمال کیا