چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 353 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 353

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵۳ چشمه معرفت - خاتمہ کتاب اُن کی جاگیریں ہیں ۔ ان تبرکات کو دیکھنے کے واسطے اور ان سے فیض حاصل کرنے کے واسطے بعض بڑے بڑے آدمی وہاں جایا کرتے ہیں چنانچہ ایک دفعہ گذشتہ مہا راجہ صاحب والی ریاست فرید کوٹ بھی خود وہاں گئے تھے اور مشہور ہے کہ انہوں نے ایک ہاتھی اور ایک ہزار روپیہ نقد ان تبرکات کے سبب گرو صاحب کی نذر کیا تھا۔ قرآن شریف اور دیگر تبرکات مفصلہ ذیل صاحبان کو ۴ را پریل ۱۹۰۸ء شنبہ کے دن گورو بشن سنگھ صاحب نے دکھائے چنانچہ قرآن شریف کو کھول کر پڑھا گیا ۔ وہ ایک نہایت خوشخط لکھی ہوئی حمائل شریف ہے جس کا سائز تخمینا ۳ انچ چوڑا اور ۴۳ انچ لمبا ہے۔ ہر صفحہ پر اردگرد سنہری لکیریں پڑی ہیں اور بعض مقامات پر سنہری بیل ہے۔ موجودہ گرو صاحب کا بیان ہے کہ پرانے گر و صاحبان سے یہ قرآن شریف بطور تبرک کے چلا آتا ہے۔ ہماری جماعت کے معزز ارکان میں سے جس جس صاحب نے موقعہ پر پہنچ کر اس قرآن شریف کی زیارت کی ہے ان صاحبان کے نام یہ ہیں۔ (1) مفتی محمد صادق صاحب اڈیٹر اخبار بدر قادیان ۔ (۲) مولوی محمد علی صاحب ایم اے اڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز قادیان۔ (۳) میرزا محمود احمد ( میرا بڑا لڑکا ) اڈیٹر رسالہ تشحیذ الاذہان ۔ (۴) سید امیر علی شاہ صاحب سب انسپکٹر جلال آباد۔ (۵) حکیم ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری ما لک کارخانہ ہمدم صحت لاہور۔ (1) شیخ عبد الرحیم صاحب نو مسلم ( سابق جگت سنگھ ) (۷) چودھری فتح محمد صاحب طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور ۔ اب ہم اس جگہ اس بات کے بیان کرنے سے خاموش نہیں رہ سکتے کہ یہ قرآن شریف کہ جو باوانا تک صاحب کے گدی نشین گروؤں کے تبرکات میں نہایت عزت اور ادب کے ساتھ اب تک اس خاندان میں چلا آیا ہے جس کی زیارت کے لئے صدہا ۳۳۸