چشمہٴ معرفت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 352 of 567

چشمہٴ معرفت — Page 352

روحانی خزائن جلد ۲۳ ۳۵۲ چشمہ معرفت - خاتمہ کتاب نہایت ادب کے ساتھ بہت سے ریشمی غلافوں کے درمیان بند ہیں اور اُن کو کھولا نہیں جاتا جب تک کہ اُن کے درشن کرنے کا خواہشمند اُس گرو کو جس کے قبضہ میں وہ ہیں مبلغ ایک سو ایک روپیہ نقد نہ دے۔ اور اُس کو کھولنے سے پہلے وہ گرو ایک سو ایک دفعہ اشنان یعنی غسل کرتا ہے تب وہ اپنے آپ کو اس قابل خیال کرتا ہے کہ اُس کو کھولے اور ہاتھ لگائے ۔ ان تبرکات کے درشن کرنے کے واسطے اور اُن کے آگے سر جھکانے کے واسطے سکھ اور ہندو لوگ سیالکوٹ ، راولپنڈی ، ڈیرہ اسمعیل خان ، ڈیرہ غازی خان ، کوہاٹ اور دیگر سرحدی علاقجات بلکہ کابل تک سے آتے ہیں ۔ آج کل جس سکھ بزرگ کے قبضہ میں یہ تبرکات ہیں اس کا نام گرو بشن سنگھ ہے۔ یہ صاحب گرو رام داس کی اولاد میں سے ہیں جو کہ باوانا تک کے بعد چوتھے گر سکھوں کے گزرے ہیں ۔ فیروز پورگز غیر مطبوعہ ۱۸۸۹ء میں جو حالات سرکار انگریزی کے کار پردازان نے اس خاندان کے متعلق لکھے ہیں اُن میں مندرج ہے کہ اس خاندان کے مورث اعلیٰ وہی گرو ۳۳۷ رام داس صاحب تھے جن کے نام نامی پر امرتسر کا مشہور سنہری مندر نامزد ہے پہلے یہ تبرکات ضلع لاہور تحصیل چونیاں کے ایک گاؤں محمدی پور نام میں تھے جہاں سے اس خاندان کا بزرگ گرو جیون مل نقل مکان کر کے موجودہ مقام میں آگیا اور یہاں اُس نے ایک گاؤں آباد کیا جس کا نام اپنے بیٹے کے نام پر گروہر سہائے رکھا چنانچہ آج تک یہ گاؤں اسی نام سے مشہور ہے گرو جیون مل کے بعد اُس کا بیٹا گر و ہر سہائے گدی نشین ہوا اور اس کے بعد گرواجیت سنگھ اور پھر گرو امیر سنگھ اور پھر گرو گلاب سنگھ اور پھر گر و فتح سنگھ ( موجودہ گرو کا باپ ) یکے بعد دیگرے جانشین ہوتے چلے آئے ۔ ان تبرکات قرآن شریف وغیرہ کے سبب اس خاندان کا اثر ہمیشہ سکھ قوم پر زور آور رہا ہے انہیں تبرکات کے سبب سے یہ خاندان ہمیشہ بڑی بڑی جاگیروں کا مالک رہا ہے ۔ چنانچہ اب تک ۲۶ گاؤں ان کے قبضہ میں ہیں جو ضلع فیروز پور میں ہیں اور ان کے علاوہ ریاستہائے نابہ و پٹیالہ میں بھی