چشمہٴ معرفت — Page 104
روحانی خزائن جلد ۲۳ اولد چشمه معرفت ۹۶ کوئی قوت پیدا کر سکے یا کوئی ذرہ اجسام بنا سکے یا کوئی علم غیب اپنی شناخت کے لئے اپنی کتاب میں بیان کر سکے یا دلوں کو تسلی دینے کے لئے اپنا کوئی معجزہ دکھلا سکے تو پھر یہ کہنا کہ اُس کا کوئی قانون قدرت ہے سراسر لغو اور بے معنی بات ہے۔ قانون کا مرتب کرنا قدرت کے بعد ہے اور جب قدرت ہی نہیں تو یہ کہنا چاہیے کہ قانون عجز اور بے قدرتی ۔ نہ کہ قانون قدرت ۔ وہ پر میشر جو مکتی دائمی نہیں دے سکتا اور کسی کا گنہ نہیں بخش سکتا اور اپنی ہستی ثابت کرنے کے لئے کوئی قدرت کا نمونہ دکھلا نہیں سکتا اس کی نسبت قانون قدرت کو کیونکر منسوب کر سکتے ہیں ۔ پھر مضمون خواں نے بیان کیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ خدا اپنے قانون کو بدل سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ کیا وہ اپنے صفات کو بھی بدل سکتا ہے۔ اب غور کرنا چاہیے کہ یہ کیسا بیہودہ جواب ہے یہ تو سچ ہے کہ جیسا کہ خدا غیر متبدل ہے اس کی صفات بھی غیر متبدل ہیں اس سے کس کو انکار ہے مگر آج تک اُس کے کاموں کی حد بست کس نے کی ہے۔ اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ اس کی عمیق در عمیق اور بے حد قدرتوں کی انتہا تک پہنچ گیا ہے بلکہ اُس کی قدرتیں غیر محدود ہیں اور اس کے عجائب کام نا پیدا کنار ہیں اور وہ اپنے خاص بندوں کے لئے اپنا قانون بھی بدل لیتا ہے مگر وہ بدلنا بھی اُس کے قانون میں ہی داخل ہے جب ایک شخص اُس کے آستانہ پر ایک نئی روح لے کر حاضر ہوتا ہے اور اپنے اندر ایک خاص تبدیلی محض اس کی رضا مندی کے لئے پیدا کرتا ہے تب خدا بھی اس کے لئے ایک تبدیلی پیدا کر لیتا ہے کہ گویا اس بندے پر جو خدا ظاہر ہوا ہے وہ اور ہی خدا ہے۔ نہ وہ خدا جس کو عام لوگ جانتے ہیں ۔ وہ ایسے آدمی کے مقابل پر جس کا ایمان کمزور ہے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے لیکن جو اس کی جناب میں ایک نہایت قوی ایمان کے ساتھ آتا ہے وہ اُس کو دکھلا دیتا ہے کہ تیری مدد کے لئے میں بھی قوی ہوں ۔ اس طرح انسانی تبدیلیوں کے مقابل پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو شخص ایمانی حالت میں ایسا مفقود الطاقت ہے کہ گویا میت ہے خدا بھی اس کی تائید اور نصرت سے دستکش ہو کر ایسا خاموش ہو جاتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ مر گیا ہے مگر یہ تمام تبدیلیاں وہ اپنے قانون کے اندر اپنے تقدس کے موافق