چشمہٴ معرفت — Page 103
روحانی خزائن جلد ۲۳ ۱۰۳ چشمه معرفت کے قواعد کلیہ کے ساتھ تطبیق دی ہے اور یہ تطبیق ایک ایسی لطیف ہے جو صد ہا معارف اور حقائق ۹۵ کے کھلنے کا دروازہ ہے اور سچی اور کامل تفسیر قرآن شریف کی وہی شخص کر سکتا ہے جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ پیش نظر رکھ کر قرآن شریف کے بیان کردہ قواعد میں نظر ڈالتا ہے ایک دفعہ مجھے بعض محقق اور حاذق طبیبوں کی بعض کتابیں کشفی رنگ میں دکھلائی گئیں جو طب جسمانی کے قواعد کلیہ اور اصول علمیہ اور ستہ ضرور یہ وغیرہ کی بحث پر مشتمل اور متضمن تھیں جن میں طبیب حاذق قرشی کی کتاب بھی تھی اور اشارہ کیا گیا کہ یہی تفسیر قرآن ہے اس سے معلوم ہوا کہ عِلْمُ الأَبدان اور علم الادیان میں نہایت گہرے اور عمیق تعلقات ہیں اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں اور جب میں نے اُن کتابوں کو پیش نظر رکھ کر جو طب جسمانی کی کتابیں تھیں قرآن شریف پر نظر ڈالی تو وه عمیق در عمیق طب جسمانی کے قواعد کلیہ کی باتیں نہایت بلیغ پیرایہ میں قرآن شریف میں موجود پائیں اور اگر خدا نے چاہا اور زندگی نے وفا کی تو میرا ارادہ ہے کہ قرآن شریف کی ایک تفسیر لکھ کر اس جسمانی اور روحانی تطابق کو دکھلاؤں ۔ غرض آسمان کے نیچے کوئی دوسری کتاب نہیں پائی جاتی کہ جو طب جسمانی اور طب روحانی میں اس قدر تطابق دکھلا کر قانون قدرت کے معیار کو اپنی پیروی کرنے والوں کے ہاتھ میں دے دے اس لئے میں پورے یقین سے سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کے مقابل پر تمام دوسرے مذاہب ہلاک شدہ ہیں وہ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ الہامی کتاب کے لئے ضروری شرط یہ ہے کہ وہ قانون قدرت کے مطابق ہو مگر مطابق کر کے دکھلاتے نہیں اور اُن کو یہ بھی سمجھ نہیں کہ قانون قدرت کے آلہ کو استعمال کرنے کے لئے طریق کیا ہے۔ وہ خدا کے قانون قدرت کو مروڑ تو ڑ کر اپنے مسلمہ عقائد کے مطابق کرنا چاہتے ہیں مگر یہ نہیں سوچتے کہ در حقیقت وہ مطابق بھی ہیں یا نہیں ۔ اور پھر مجھے یہ تعجب ہے کہ آریہ صاحبان قانون قدرت کا ذکر ہی کیوں کرتے ہیں۔ کیونکہ جس حالت میں اُن کے پرمیشر میں یہ قدرت ہی نہیں کہ ایک روح بنا سکے یا کسی روح میں