براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 403
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۳ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم یعنی کاف الگ اور آشیر الگ۔ جس کے معنے تھے مانند ملک شام یعنی شام کے ملک کی طرح اور چونکہ یہ ملک حضرت عیسی علیہ السلام کی ہجرت گاہ تھا اور وہ سرد ملک کے رہنے والے تھے اس لئے خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو تسلی دینے کے لئے اس ملک کا نام گاشِیر رکھ دیا۔ جس کے معنے ہیں آشیر کے ملک کی طرح ۔ پھر کثرت استعمال سے الف ساقط ہو گیا۔ اور کشیر رہ گیا۔ پھر بعد اس کے غیر قوموں نے جو کشیر کے باشندے نہ تھے اور نہ اس ملک کی زبان رکھتے تھے ایک میم اس میں زیادہ کر کے کشمیر بنا دیا مگر یہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے کہ کشمیری زبان میں اب تک کشیر ہی بولا جاتا اور لکھا جاتا ہے۔ ماسوا اس کے کشمیر کے ملک میں اور بہت سی چیزوں کے اب تک عبرانی نام پائے جاتے ہیں بلکہ بعض پہاڑوں پر نبیوں کے نام استعمال پا گئے ہیں جن سے سمجھا جاتا ہے کہ عبرانی قوم کسی زمانہ میں ضرور اس جگہ آباد رہ چکی ہے جیسا کہ سلیمان نبی کے نام سے ایک پہاڑ کشمیر میں موجود ہے اور ہم اس مدعا کے ثابت کرنے کے لئے آ لئے ایک لمبی فہرست اپنی بعض کتابوں میں شائع کر چکے ہیں جو عبرانی الفاظ اور اسرائیلی نبیوں کے نام پر مشتمل ہے جو کشمیر میں اب تک پائے جاتے ہیں۔ اور کشمیر کی تاریخی کتابیں جو ہم نے بڑی محنت سے جمع کی ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں ان سے بھی مفصلاً یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں جو اس وقت شمار کی رو سے دو ہزار برس کے قریب گذر گیا ہے ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شاہزادہ نبی کہلاتا تھا۔ اس کی قبر محلہ خان یار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کر کے مشہور ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ کتا بیں تو میری پیدائش سے بہت پہلے کشمیر میں شائع ہو چکی ہیں ۔ پس کیونکر کوئی خیال کر سکتا ہے کہ کشمیریوں نے افترا کے طور پر یہ کتابیں لکھی تھیں ۔ ان لوگوں کو اس افترا کی کیا ضرورت تھی اور کس غرض کے لئے ۲۲۸ انہوں نے ایسا افترا کیا ؟ اور عجیب تریہ کہ وہ لوگ اب تک اپنی کمال سادہ لوحی سے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر مع جسم عنصری چلے گئے تھے