براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 402
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۴۰۲ ضمیمہ براہین احمد یہ حصہ پنجم L اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنی رفاقت کے لئے صرف ایک ہی شخص اختیار کیا تھا یعنی دھوما کو جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے وقت صرف حضرت ابو بکر کو اختیار کیا تھا۔ کیونکہ سلطنت رومی حضرت عیسی کو باغی قرار دے چکی تھی اور اسی جرم سے پیلاطوس بھی قیصر کے حکم سے قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ در پردہ حضرت عیسی کا حامی تھا اور اس کی عورت بھی حضرت عیسیٰ کی مرید تھی ۔ پس ضرور تھا کہ حضرت عیسی اس ملک سے پوشیدہ طور پر نکلتے کوئی قافلہ ساتھ نہ لیتے اس لئے انہوں نے اس سفر میں صرف دھو ما حواری کو ساتھ لیا جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے سفر میں صرف ابوبکر کو ساتھ لیا تھا اور جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی اصحاب مختلف راہوں سے مدینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے تھے۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے حواری مختلف راہوں سے مختلف وقتوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی خدمت میں جا پہنچے تھے۔ اور جب تک حضرت عیسیٰ ان میں رہے جیسا کہ آیت مَا دُمْتُ فِيهِمْ کا منشاء ہے وہ سب لوگ توحید پر قائم رہے بعد وفات حضرت عیسی علیہ السلام کے ان لوگوں کی اولا د بگڑ گئی ۔ یہ معلوم نہیں کہ کس پشت میں یہ خرابی پیدا ہوئی ۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ تیسری صدی تک دین عیسائی اپنی اصلیت پر تھا بہر حال معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات کے بعد وہ تمام لوگ پھر اپنے وطن کی طرف چلے آئے کیونکہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ قیصر روم عیسائی ہو گیا پھر بے وطنی میں رہنا لا حاصل تھا۔ اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا کشمیر کی طرف سفر کرنا ایسا امر نہیں ہے کہ جو بے دلیل ہو، بلکہ بڑے بڑے دلائل سے یہ امر ثابت کیا گیا ہے ۔ یہاں ۲۲۷ تک که خود لفظ کشمیر بھی اس پر دلیل ہے کیونکہ لفظ کشمیر وہ لفظ ہے جس کو کشمیری زبان میں کشیر کہتے ہیں۔ ہر ایک کشمیری اس کو کشیر بولتا ہے۔ پس معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ لفظ عبرانی ہے کہ جو کاف اور اشیر کے لفظ سے مرکب ہے اور اشیر عبرانی زبان میں شام کے ملک کو کہتے ہیں اور کاف مماثلت کے لئے آتا ہے۔ پس صورت اس لفظ کی کا شیر تھی ا المآئدة : ١١٨